طورخم بارڈر کی بندش کے ۳۲۷ دن مکمل، ۲.۵ ارب ڈالر کے معاشی نقصان کا انکشاف

خیبر ( پاک ٹوڈے): پاک افغان طورخم بارڈر کی بندش کو 327 دن گزر جانے کے باوجود یہ مسئلہ حل نہ ہو سکا۔ بارڈر کی بندش سے خیبر پختونخوا کے لاکھوں شہری براہ راست متاثر ہوئے ہیں جبکہ سمال انڈسٹریز سے وابستہ ہزاروں مزدور فاقہ کشی پر مجبور ہو گئے ہیں۔

خیبر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر حاجی یوسف آفریدی، سینئر نائب صدر واجد علی شینواری، حضرت علی بہلول، حاجی عابد اور دیگر تاجروں نے ڈسٹرکٹ پریس کلب خیبر لنڈی کوتل میں پریس کانفرنس کی۔

تاجر رہنماؤں نے کہا کہ بارڈر کی بندش کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھائی گئی لیکن تاحال کوئی عملی شنوائی نہیں ہوئی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بارڈر پر سیاست نہ کی جائے اور تجارت کو سیاست سے الگ رکھا جائے۔

چیمبر عہدیداروں کے مطابق اسلام آباد میں وزیر داخلہ محسن نقوی سے ایک اہم اجلاس ہوا تھا جس میں بلوچستان چیمبر اور سرحد چیمبر کے نمائندے بھی شریک تھے۔ اس موقع پر وزیر داخلہ نے یقین دہانی کرائی تھی کہ اس مسئلے پر خیبر پختونخوا میں بیٹھ کر تفصیلی مذاکرات کیے جائیں گے، مگر بدقسمتی سے وہ اجلاس اب تک منعقد نہیں ہو سکا۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ تمام سرحدی راستوں کی بندش کے باعث اب تک قومی خزانے کو تقریباً 2.5 ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔ اس میں برآمدات کی مد میں 1.644 ارب ڈالر اور درآمدات کی مد میں 817 ملین ڈالر کا خسارہ شامل ہے۔

چیمبر قائدین کا کہنا تھا کہ بارڈر بندش کے سبب ہزاروں چھوٹے بڑے ٹرانسپورٹ کاروبار، ہوٹلز اور مارکیٹس مکمل طور پر بند ہو چکی ہیں جس سے ہزاروں گھرانوں کا روزگار تباہ ہو گیا ہے۔ تاجروں کے مطابق صرف سیس ٹیکس کی مد میں صوبے کو 7.27 ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے، جبکہ صوبائی حکومت اس اہم مسئلے پر مکمل خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹرانزٹ ٹریڈ کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔

خیبر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر حاجی یوسف آفریدی نے مطالبہ کیا کہ چیمبر کے گزشتہ پانچ سالوں کا آڈٹ کرایا جائے، چیمبر کا مرکزی دفتر خیبر میں فعال کیا جائے اور بعض غیر مقامی افراد کی مبینہ مداخلت کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔

Related posts

افغانستان کا بدخشان اور ڈیورنڈ لائن کے ساتھ پاکستانی مداخلت کی کوششوں کو ناکام بنانے کا دعویٰ

15 صوبے بنانے کا حکومتی فیصلہ غلط، فاٹا انضمام بھی بدترین ثابت ہوا: مولانا فضل الرحمان

شاہد آفریدی کو سندھ پولیس اسپورٹس بورڈ کے سفیرِ کھیل مقرر کر دیا گیا۔