صوبے میں بدامنی کا آگ کون بھڑکا رہا ہے؟ جے یو آئی رہنماء مولانا عطاء الرحمان کا وفاق اور اداروں سے تلخ سوال

پشاور (پاک ٹوڈے)​: جمعیت علماء اسلام کے صوبائی امیر مولانا عطاء الرحمان نے خیبرپختونخوا میں بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال اور سنگین معاشی بحران پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ قدرتی وسائل اور معدنیات سے مالا مال ہونے کے باوجود صوبے کے عوام بنیادی سہولیات اور اپنے آئینی حقوق سے محروم ہیں۔

​پشاور میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جے یو آئی کے صوبائی امیر کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا پن بجلی، جنگلات، زراعت، سیاحت اور معدنی ذخائر سے مالا مال ہے، لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ ان تمام تر وسائل کا براہِ راست فائدہ یہاں کے مقامی لوگوں کو نہیں مل رہا۔ انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ میں صوبے کا حق اور پن بجلی کے باقاعدہ منافع سے صوبے کو محروم رکھا جا رہا ہے۔

​ضم شدہ اضلاع کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے مولانا عطاء الرحمان نے انکشاف کیا کہ ان ضم شدہ علاقوں کے لیے سالانہ 100 ارب روپے کے جو وعدے کیے گئے تھے، ان میں سے ایک بھی پورا نہیں ہوا۔ تمام طے شدہ وعدوں اور مالی ذمہ داریوں کا بوجھ تنہا خیبرپختونخوا حکومت کے شانہ بشانہ ڈال دیا گیا ہے، جس سے صوبائی معیشت پر شدید دباؤ آیا ہے۔

​صوبے میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور پولیس پر ہونے والے حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے سوال اٹھایا کہ یہاں تسلسل کے ساتھ بدامنی پیدا کرکے آخر کس کی خدمت کی جا رہی ہے؟ انہوں نے کہا کہ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ کیا یہ بدامنی ہمارے اپنے اداروں کی ناکامی ہے یا عالمی طاقتیں خیبرپختونخوا کے قیمتی ذخائر پر نظریں جمائے ہوئے ہیں، تاکہ مقامی لوگ غربت کی دلدل میں دھنستے رہیں اور غیر ملکی قوتیں ان وسائل سے مستفید ہوں۔

​جمعیت علماء اسلام کے صوبائی سربراہ نے مطالبہ کیا کہ وفاق خیبرپختونخوا کے تمام تمام تر آئینی و مالی حقوق فوری طور پر ادا کرے اور ضم شدہ اضلاع کے لیے کیے گئے 100 ارب روپے کے تمام وعدے بلا تاخیر پورے کیے جائیں تاکہ صوبے میں معاشی استحکام اور دائی امن قائم ہو سکے۔

Related posts

پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اسٹریٹیجک باہمی دفاعی معاہدے اور مکہ دفاعی اتحاد پر عملدرآمد کے لیے پرعزم

پی ٹی آئی کا لانگ مارچ مقررہ تاریخ پر ہوگا، پرامن احتجاج کریں گے: بیرسٹر گوہر

کچلاک میں کم سن بچی کے مبینہ نکاح کا معاملہ: وزیراعلیٰ بلوچستان نے نوٹس لے لیا