پشاور (پاک ٹوڈے): گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے میں امن و امان کا قیام اولین ترجیح ہے اور 10 سے 12 شورش زدہ اضلاع کو ماڈل اضلاع بنایا جائے گا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی نے مولانا فضل الرحمان کو سلجھا ہوا اور زیرک سیاست دان قرار دیا، تاہم کہا کہ گزشتہ روز ان کی تقریر سن کر مایوسی ہوئی۔
گورنر کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان خود بھی صوبے میں امن و امان کی خراب صورتحال کا ذکر کرتے رہے ہیں اور کہتے رہے ہیں کہ وہ اپنے علاقے میں آزادانہ طور پر گھوم پھر نہیں سکتے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے وزیراعلیٰ ریاست کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں، جبکہ ان کے بقول خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے کا عزم نہیں رکھتی تھی۔ فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ بلوچستان میں بی ایل اے اور خیبرپختونخوا میں بھی شدت پسند موجود ہیں۔
صوبے کے معدنی وسائل کے حوالے سے گورنر نے کہا کہ معدنیات کو نکال کر صوبے کے عوام کی ترقی اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ انہوں نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو خیبرپختونخوا کے معدنیات کے شعبے میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ معدنی وسائل سے استفادہ کرنے سے عوام کی خوشحالی کے مواقع پیدا ہوں گے۔
فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ بعض عناصر صوبے کے عوام کی خوشحالی نہیں چاہتے۔