دیر کالونی اسکول سانحہ: پشاور ہائیکورٹ بار کی درخواست پر 21 اکتوبر کو سماعت

پشاور (پاک ٹوڈے): پشاور ہائیکورٹ بار کی جانب سے رنگ روڈ دیر کالونی میں نجی اسکول کی چھت گرنے کے سانحے کے خلاف دائر درخواست سماعت کے لیے مقرر کر دی گئی ہے۔ درخواست پر 21 اکتوبر کو سماعت ہوگی۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اسکول کی چھت گرنے کا واقعہ متعلقہ اداروں کی جانب سے مؤثر نگرانی اور حفاظتی ضوابط پر عمل درآمد میں ناکامی کا نتیجہ ہے۔ درخواست گزار کے مطابق سانحے میں 30 سے زائد طلبہ اور اساتذہ جاں بحق جبکہ 50 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔

درخواست میں وفاقی و صوبائی حکومتوں، پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (پی ڈی اے)، پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی (پی ایس آر اے) اور اسکول انتظامیہ کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست گزار نے مؤقف اپنایا ہے کہ مبینہ طور پر اسکول کی عمارت منظور شدہ نقشوں، بلڈنگ اپروول اور سیفٹی سرٹیفکیٹ کے بغیر چلائی جا رہی تھی۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ یہ سانحہ آئین کے آرٹیکل 9، 14 اور 25-A کے تحت فراہم کردہ بنیادی حقوق سے بھی متعلق ہے۔ عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ واقعے کی وجوہات اور ذمہ داروں کا تعین کرنے کے لیے عدالتی کمیشن تشکیل دیا جائے اور غفلت کے مرتکب افراد اور اداروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

درخواست گزار نے جاں بحق افراد کے لواحقین کے لیے شہداء پیکج، زخمیوں کو مفت علاج اور مناسب معاوضہ فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

درخواست میں خیبر پختونخوا کے تمام سرکاری اور نجی اسکولوں کی عمارتوں کا جامع ساختیاتی آڈٹ کرانے اور حفاظتی معیار پر پورا نہ اترنے والی عمارتوں کو بند کرنے یا ضروری اصلاحات کے بعد ہی دوبارہ کھولنے کی استدعا کی گئی ہے۔

درخواست گزار کے مطابق مستقبل میں ایسے افسوس ناک واقعات کی روک تھام کے لیے تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی حفاظت یقینی بنانے اور متعلقہ اداروں کو جواب دہ ٹھہرانا ضروری ہے۔

Related posts

خیبرپختونخوا میں ڈینگی کے 3,771 کیسز، 2 اموات رپورٹ، کوہاٹ سب سے زیادہ متاثر

فضل الرحمان گورنر راج کو مالِ غنیمت سمجھ کر حصہ مانگ رہے ہیں، طلال چوہدری

صوبے میں امن و امان پہلی ترجیح، 10 سے 12 شورش زدہ اضلاع کو ماڈل بنائیں گے، گورنر فیصل کریم کنڈی