اسلام آباد (پاک ٹوڈے): سابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے شہباز شریف حکومت کی معاشی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں خطے کے مقابلے میں گیس، پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں، ایندھن پر ٹیکس و لیوی، مہنگائی، غربت اور بے روزگاری کی شرح سب سے زیادہ ہے، جبکہ ملک میں سرمایہ کاری کی شرح گزشتہ 60 سال کی کم ترین سطح پر رہی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں مفتاح اسماعیل نے کہا کہ شہباز شریف کی حکومت کو ساڑھے چار سال ہو چکے ہیں، لیکن اس طویل عرصے کے باوجود پاکستان معاشی مشکلات سے باہر نہیں نکل سکا۔ ان کے مطابق پٹرول اور ڈیزل پر ٹیکس اور لیوی کا بوجھ بھی خطے میں سب سے زیادہ پاکستان میں ہے، جبکہ آٹے کی قیمتیں بھی بلند ترین سطح پر ہیں۔
سابق وزیر خزانہ نے دعویٰ کیا کہ حکومتی پالیسیوں کے باعث پاکستان کو گندم درآمد کرنا پڑ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کی شرح بھی زیادہ ہے، جبکہ بھوک کے بڑھتے ہوئے مسائل اور وفاقی و صوبائی سطح پر کرپشن کی صورتحال بھی تشویش ناک ہے۔
مفتاح اسماعیل نے سوال اٹھایا کہ کیا ایمانداری سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ شہباز شریف کے دور حکومت میں پاکستان کو اچھی حکمرانی ملی؟ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کے دور میں ایسی کوئی واضح حکمت عملی یا وژن دکھائی نہیں دیا جس سے ملک کے حالات بہتر ہو سکتے۔
ان کے بیان میں حکومت کی معاشی کارکردگی، مہنگائی پر قابو پانے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے اقدامات پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
