سیوٹا (پاک ٹوڈے): اسپین کے شمالی افریقی علاقے سیوٹا میں 3 ہزار سے زائد تارکین وطن اب بھی سڑکوں پر رہنے پر مجبور ہیں، جن میں کم عمر بچے بھی شامل ہیں۔
علاقائی پالیسی کے وزیر اینجل وکٹر ٹورس نے اسپین کے نشریاتی ادارے ٹی وی ای سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ حکومتی حکم نامے کے تحت مختص رہائشی مراکز میں تارکین وطن کی منتقلی آئندہ دنوں میں جاری رہے گی، جبکہ ضرورت پڑنے پر ایک اضافی مرکز بھی قائم کیا جائے گا۔
وزیر ٹورس نے کہا کہ حکومت کو امید ہے کہ چند ہفتوں کے اندر تمام تارکین وطن کو رہائشی مراکز میں منتقل کر دیا جائے گا، جس کے بعد واپسی سے متعلق فائلوں پر کارروائی شروع ہوگی۔
ان کے مطابق روزانہ 150 سے 200 تارکین وطن رضاکارانہ طور پر مراکش واپس جا رہے ہیں، جبکہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 160 افراد مراکش واپس گئے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اسپین میں صرف وہ افراد رہیں گے جو بین الاقوامی تحفظ کے حقدار ہوں گے، جبکہ ان کم عمر بچوں کو بھی رہنے کی اجازت ہوگی جنہیں ان کے خاندانوں سے دوبارہ ملانا ممکن نہیں ہوگا۔
حکومت سیوٹا میں گنجائش سے زیادہ ہجوم کی صورتحال پر قابو پانے کے لیے کم عمر تارکین وطن کو اسپین کے مرکزی علاقے میں منتقل کرنے کا بھی منصوبہ رکھتی ہے۔
دوسری جانب وزیر ٹورس نے اتوار کو سیوٹا اسمبلی کے ایک قانون ساز کی گاڑی پر پتھراؤ کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ناقابل قبول قرار دیا۔