اسلام آباد (پاک ٹوڈے): جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی گرفتاری سے متعلق اپنے کردار کے بارے میں گردش کرنے والی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بغیر ثبوت خبریں نہیں چلانی چاہئیں اور اس وقت ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے سوال اٹھایا کہ سہیل آفریدی کی گرفتاری میں ان کا ہاتھ ہونے کی باتیں کیوں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی بے تُکی باتیں نہ کی جائیں۔ ان کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نے اپنی کمٹمنٹ پوری کی، جبکہ حکومت اپنے وعدے سے پیچھے ہٹی۔
مولانا فضل الرحمان نے گورنر راج کو مسائل کا حل قرار دینے سے بھی اختلاف کیا اور کہا کہ اس اقدام کو قومی مفادات، آئین اور سیاست کے فائدے سے جوڑنا درست نہیں۔
دوسری جانب وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے معاملے کو زیادہ سنجیدہ نہ لیا جائے، حالات بہتر ہوں گے اور دہشت گردی کا خاتمہ کیا جائے گا۔
رانا ثناء اللہ کے مطابق 12 اکتوبر 1999 کو آئین توڑ کر مارشل لا نافذ کیا گیا تھا، جبکہ ان کے بقول 11 اکتوبر 2026 کو خیبرپختونخوا میں نافذ کی گئی ایمرجنسی آئین کے مطابق ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ ایمرجنسی کی توثیق بھی کرے گی۔
انہوں نے خیبرپختونخوا حکومت پر دہشت گردی کے خلاف تعاون نہ کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ صوبے میں حالات بہتر بنانے اور دہشت گردی کے خلاف کامیابی حاصل کرنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مکمل معاونت ضروری ہے۔
