سندھ اسمبلی نے تقسیم کے خلاف قرار داد منظور کر لی، وزیراعلیٰ نے ایم کیو ایم کے موقف کو دوغلا پن قرار دے دیا۔

کراچی (پاک ٹوڈے): وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واضح کیا ہے کہ سندھ کے مستقبل کا فیصلہ کسی دوسرے مقام یا غیر متعلقہ فورمز پر بیٹھ کر نہیں کیا جا سکتا، حتیٰ کہ قومی اسمبلی بھی سندھ کی تقسیم پر بات کرنے کا حق نہیں رکھتی۔ سندھ اسمبلی میں نئے صوبوں کے قیام کے خلاف پیش کی گئی قرار داد کی منظوری کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ایم کیو ایم کی سیاست کو آڑے ہاتھوں لیا اور اسے دوغلا پن قرار دیا۔

مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ انتظامی بہتری کے لیے نئے اضلاع تشکیل دیے جا سکتے ہیں اور مقامی حکومتوں کو مزید بااختیار بنایا جا رہا ہے، لیکن محض آبادی کو دلیل بنا کر سندھ کی تقسیم کی کوئی بات برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ سندھ میں نئے صوبے بنانے کی بات کرنے والے عوام کے نمائندے نہیں ہیں اور ضرورت پڑنے پر انتظامی اصلاحات پر تفصیلی بحث ہو سکتی ہے لیکن تقسیم کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے رکن نثار کھوڑو کی جانب سے پیش کی جانے والی سندھ کی تقسیم کے خلاف قرار داد کو ایوان نے کثرت رائے سے منظور کر لیا ہے۔

Related posts

15 صوبے بنانے کا حکومتی فیصلہ غلط، فاٹا انضمام بھی بدترین ثابت ہوا: مولانا فضل الرحمان

شاہد آفریدی کو سندھ پولیس اسپورٹس بورڈ کے سفیرِ کھیل مقرر کر دیا گیا۔

ضلع کرم میں پولیس افسر کو نامعلوم افراد نے اغواء کر لیا۔