سعودی-حوثی کشیدگی: کیا پاکستان ایک اور پرائی جنگ کا حصہ بنے گا؟

تحریر: ریاض حسین

پشاور: یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو فوجی ہدف قرار دینے اور اسے استعمال نہ کرنے کی وارننگ نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے دوران پاکستان کی دفاعی ذمہ داریوں اور ممکنہ فوجی شمولیت کے بارے میں نئے سوالات اٹھا دیے ہیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے ایئرلائنز، ایئرپورٹ کے عملے اور مسافروں کو ہوائی اڈہ استعمال کرنے سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اسے نشانہ بنانے کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔ یہ بیان ایئرپورٹ انتظامیہ کی جانب سے پروازوں کی بحالی کے لیے دو ٹرمینلز مختص کرنے کے اعلان کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا۔

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی پاکستان کو ایک مشکل تزویراتی صورتِ حال سے دوچار کر رہی ہے۔ اسلام آباد کو ایک طرف سعودی عرب کے ساتھ دفاعی شراکت داری برقرار رکھنی ہے، جبکہ دوسری جانب ایران کے ساتھ تعلقات، اپنی قومی سلامتی اور پہلے سے دباؤ کا شکار معیشت کو ممکنہ نقصانات سے بچانا ہے۔

دفاعی معاہدہ اور پاکستان کے لیے فوجی چیلنجز

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان کی ذمہ داریوں اور ممکنہ فوجی کردار پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ تاہم، معاہدے کی اصل دفعات، قانونی حیثیت اور عملی اطلاق کی سرکاری ذرائع سے تصدیق ضروری ہے۔

عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کے شعبۂ بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر ڈاکٹر عبدالشکور کے مطابق، سعودی عرب پر حملوں میں شدت پاکستان اور ترکیہ پر اپنے دفاعی وعدوں کو عملی شکل دینے کے لیے دباؤ بڑھا سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سعودی قیادت اب تک تنازع کو وسیع جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی خواہش مند دکھائی دیتی تھی، لیکن حملوں میں شدت علاقائی شراکت داروں کے لیے صورتِ حال مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔

پاکستان کے لیے سعودی عرب کے دفاع میں مدد اور حوثیوں کے خلاف براہِ راست جارحانہ کارروائیوں میں شرکت کے درمیان فرق واضح رکھنا ضروری ہوگا۔ فضائی دفاع، انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ اور دفاعی تربیت نسبتاً محدود تعاون کی صورتیں ہو سکتی ہیں، جبکہ براہِ راست جنگی کارروائیاں پاکستانی فوجیوں کی جانوں، فوجی وسائل اور ملکی سلامتی کے لیے زیادہ خطرات پیدا کر سکتی ہیں۔

ڈاکٹر عبدالشکور کے مطابق، حوثیوں کی غیر متناسب جنگی حکمتِ عملی کے باعث انہیں صرف فضائی اور میزائل حملوں سے فیصلہ کن طور پر شکست دینا مشکل ہو سکتا ہے۔ ان کے خیال میں پاکستان کو کسی بھی فوجی اقدام سے پہلے اس کے مقاصد، مدت اور ممکنہ نتائج کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے۔

ایران کے ساتھ تعلقات اور مغربی سرحد کا خطرہ

پاکستان کے لیے دوسرا بڑا چیلنج ایران کے ساتھ تعلقات کا تحفظ ہے۔ ایران حوثی تحریک کی حمایت کرتا رہا ہے، تاہم حوثیوں کے فیصلوں اور کارروائیوں پر تہران کے اثر و رسوخ کی حد کو محتاط انداز میں دیکھنا ضروری ہے۔

سینئر صحافی حق نواز خان کے مطابق، پاکستان پہلے ہی مشرق میں بھارت اور مغرب میں افغانستان سے متعلق سکیورٹی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے میں اگر اسلام آباد یمن میں حوثیوں کے خلاف براہِ راست فوجی کارروائیوں میں شامل ہوتا ہے تو علاقائی عدم استحکام مزید بڑھ سکتا ہے اور ایران کے ساتھ تعلقات بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔

ان کے مطابق، پاکستان ایران پر اپنا سفارتی اثر و رسوخ کھونے اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتا۔ اس لیے اسلام آباد کو سعودی عرب کے ساتھ دفاعی شراکت داری برقرار رکھتے ہوئے تہران کے ساتھ سفارتی رابطے بھی جاری رکھنے چاہییں۔

پاکستان کے لیے اہم سوال یہ ہوگا کہ وہ سعودی عرب کی سلامتی میں معاونت کس حد تک کر سکتا ہے، بغیر اس کے کہ خود کسی وسیع تر علاقائی تصادم کا فریق بن جائے۔

معاشی دباؤ: تیل، مہنگائی اور ترسیلاتِ زر

فوجی خطرات کے ساتھ ساتھ علاقائی جنگ پاکستان کی معیشت پر بھی سنگین اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ پاکستان توانائی کی درآمدات پر انحصار کرتا ہے اور خلیجی ممالک کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری اور بیرونِ ملک روزگار کے ذریعے اس کے گہرے معاشی روابط ہیں۔

تنازع طویل ہونے کی صورت میں تیل کی عالمی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں، بحری تجارتی راستے متاثر ہو سکتے ہیں اور نقل و حمل و بیمے کے اخراجات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات، بجلی اور خوراک کی قیمتیں مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

ڈاکٹر عبدالشکور نے خبردار کیا کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ اور مہنگائی عام شہریوں پر اضافی بوجھ ڈال سکتے ہیں، جبکہ بہت سے گھرانے پہلے ہی بنیادی ضروریات پوری کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
خلیجی ممالک میں کام کرنے والے پاکستانیوں کے روزگار پر منفی اثرات پڑنے کی صورت میں ترسیلاتِ زر بھی متاثر ہو سکتی ہیں، جو لاکھوں خاندانوں کی آمدن اور پاکستان کے زرمبادلہ کا اہم ذریعہ ہیں۔ توانائی کی درآمدات کا بڑھتا ہوا بل بھی ملکی معیشت اور بیرونی کھاتوں پر دباؤ بڑھا سکتا ہے۔

یہ خطرات پاکستان کو فوجی طور پر غیر جانب دار رہنے کے باوجود متاثر کر سکتے ہیں، جبکہ براہِ راست جنگ میں شمولیت سے فوجی اخراجات اور سکیورٹی کے خطرات مزید بڑھ سکتے ہیں۔

کیا سعودی عرب فوجی اخراجات برداشت کرے گا؟

پاکستان سعودی عرب کے ساتھ مالی معاونت، رسد، سازوسامان اور فوجی تعیناتی کے اخراجات پر بات چیت کر سکتا ہے، لیکن یہ فرض کرنا درست نہیں ہوگا کہ سعودی عرب تمام اخراجات خودبخود ادا کرے گا۔

کسی بھی فوجی مشن سے پہلے اخراجات، گولہ بارود، آلات کی دیکھ بھال، طبی سہولتوں اور تعیناتی کی مدت سے متعلق واضح مالی معاہدہ ضروری ہوگا۔ سعودی عرب کی جانب سے براہِ راست فوجی اخراجات برداشت کیے جانے کی صورت میں بھی تیل کی بلند قیمتوں، تجارت میں رکاوٹوں اور ترسیلاتِ زر پر ممکنہ اثرات ختم نہیں ہوں گے۔

پاکستان کے لیے بہتر راستہ کیا ہے؟

پاکستان کے سامنے بنیادی طور پر تین راستے ہیں: سفارتی حمایت اور دفاعی تعاون تک محدود رہنا، سعودی عرب کی اہم تنصیبات کے دفاع کے لیے محدود معاونت فراہم کرنا، یا حوثیوں کے خلاف براہِ راست جارحانہ کارروائیوں میں شامل ہونا۔

پہلے دو راستوں میں بھی خطرات موجود ہیں، لیکن براہِ راست جنگ میں شمولیت سے جانی نقصان، جوابی کارروائیوں، اضافی فوجی اخراجات اور ایران کے ساتھ تعلقات میں خرابی کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

اسلام آباد کو کسی بھی اقدام سے پہلے دفاعی معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی وضاحت، فوجی مشن کی حدود، کمان کے انتظامات اور مالی شرائط طے کرنی چاہییں۔ ساتھ ہی ایران کے ساتھ سفارتی رابطے برقرار رکھنے اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کی حمایت کرنا بھی ضروری ہوگا۔

Related posts

تین دہائیوں کی مہم کے باوجود پاکستان پولیو سے پاک کیوں نہ ہو سکا؟

چمن پاک افغان بارڈر کی بندش کو ایک سال مکمل، دونوں ممالک کو تقریباً 4 ارب ڈالر کا نقصان، سرحدی معیشت مفلوج

کراچی میں ختنے کے بعد شیر خوار بچے کی ایم پاکس سے موت، کیا طبی غفلت پھیلاؤ کا سبب بنی؟