راولپنڈی، اسلام آباد میں لانگ مارچ کے پیشِ نظر سیکیورٹی سخت، 22 ہزار سے زائد اہلکار تعینات

راولپنڈی (پاک ٹوڈے): پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سمیت مختلف اپوزیشن جماعتوں کے ممکنہ لانگ مارچ اور احتجاجی جلوسوں کے پیشِ نظر راولپنڈی، اسلام آباد اور اٹک میں سیکیورٹی انتظامات سخت کردیئے گئے ہیں، جبکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اضافی نفری طلب کرلی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں 22 ہزار سے زائد سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے جائیں گے، جن کی نگرانی 8 ڈی آئی جیز، 10 ایس ایس پیز، 40 ایس پیز اور 58 ڈی ایس پیز کریں گے۔ تعینات اہلکاروں کے لیے مختلف مقامات پر رہائش کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔

خیبرپختونخوا کو پنجاب سے ملانے والے ضلع اٹک میں سیکیورٹی کے لیے 30 ہزار سے زائد اہلکار طلب کیے گئے ہیں۔ پنجاب کے مختلف اضلاع سے اضافی پولیس فورس کے علاوہ پنجاب کانسٹیبلری، رائٹ مینجمنٹ پولیس اور دیگر یونٹس بھی اٹک پہنچ رہے ہیں۔

راولپنڈی پولیس نے احتجاج کے دوران سیکیورٹی انتظامات کے لیے مقامی پولیس کی معاونت کی غرض سے مزید 9 ہزار اہلکاروں کی درخواست کی ہے، جبکہ راولپنڈی ڈویژن کے مختلف اضلاع سے اضافی نفری بھی طلب کی گئی ہے۔

دوسری جانب ممکنہ احتجاجی قافلوں کو جڑواں شہروں میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے بڑی تعداد میں کنٹینرز قبضے میں لے کر شاہراہوں اور کھلی جگہوں پر منتقل کیے جا رہے ہیں۔ منصوبے کے تحت راولپنڈی اور اسلام آباد کے 30 داخلی راستے بند کیے جائیں گے، جن میں راولپنڈی کے 11 انٹری پوائنٹس شامل ہیں۔

جماعت اسلامی، کسان اتحاد اور پی ٹی آئی کی جانب سے آئندہ دنوں میں اسلام آباد میں احتجاجی مارچ اور دھرنوں کا اعلان کیا گیا ہے۔ جماعت اسلامی نے پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کے خلاف اسلام آباد مارچ کا اعلان کیا ہے، جبکہ پی ٹی آئی نے بانی عمران خان کی رہائی کے مطالبے پر 27 ستمبر کو لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔ کسان اتحاد بھی کسانوں کے لیے ریلیف کے مطالبات کے ساتھ احتجاجی مارچ کا اعلان کرچکا ہے۔

ذرائع کے مطابق راولپنڈی ضلع میں پولیس اہلکاروں کی تمام معمول کی چھٹیاں یکم اکتوبر تک بند کردی گئی ہیں۔ سی پی او راولپنڈی حسن مشتاق سکھیرہ نے حکم جاری کیا ہے کہ انتہائی ہنگامی صورتحال کے علاوہ کیژول اور ارنڈ سمیت تمام چھٹیاں یکم اکتوبر تک معطل رہیں گی۔

اسلام آباد میں قانون و نظم کی ڈیوٹی کے لیے دیگر علاقوں سے بلائے گئے پولیس افسران کے رہائشی انتظامات بھی مکمل کیے جا رہے ہیں۔ منصوبے کے تحت 362 پولیس افسران و اہلکاروں کے لیے 13 ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسز میں 132 کمرے مختص کیے گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق 8 ڈی آئی جیز کو میلوڈی جی-6 کے اسلام آباد ہوٹل، 10 ایس ایس پیز کو بلیو ایریا کے ایک ہوٹل جبکہ 40 ایس پیز کو مختلف ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسز میں رہائش دی جائے گی۔ اسی طرح 58 ڈی ایس پیز اور 246 انسپکٹرز کے لیے نسبتاً کم کرایے والے گیسٹ ہاؤسز میں انتظامات کیے گئے ہیں۔

اس کے علاوہ دیگر صوبوں سے اسلام آباد بلائے گئے پولیس اور ایف سی اہلکاروں کے لیے سرکاری عمارتوں، اسکولوں، کالجز، اسپورٹس کمپلیکس، میرج ہالز اور پولیس اسٹیشنز میں رہائش کا بندوبست کیا جا رہا ہے۔

Related posts

کراچی: اورنگی ٹاؤن میں پسند کی شادی پر بھائی نے 17 سالہ بہن کو قتل کر دیا، ملزم فرار

شہباز شریف کے دونوں ادوار حکومت میں وفاقی قرضوں میں 37 ہزار ارب سے زائد کا تاریخی اضافہ: اسٹیٹ بینک دستاویزات

عمران خان کی دو بہنوں سمیت خاندان کے مزید افراد گرفتار