اسلام آباد (پاک ٹوڈے): خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے باوجود امن و امان کی صورتحال میں بہتری نہ آ سکی، جبکہ شدت پسندی کے واقعات اور پولیس اہلکاروں سمیت پولیو ٹیموں پر حملوں میں اضافے نے سکیورٹی صورتحال پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق سابقہ قبائلی اضلاع، بالخصوص ضلع مہمند اور جنوبی اضلاع میں سکیورٹی صورتحال بدستور تشویش ناک ہے۔ ضلع مہمند میں دو پولیس اہلکاروں کی شہادت سمیت مختلف علاقوں میں پولیس کو نشانہ بنانے کے واقعات پیش آئے ہیں، جبکہ پولیو ٹیموں پر حملوں نے بھی انسداد پولیو مہم کی سکیورٹی سے متعلق خدشات بڑھا دیے ہیں۔
ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں اور لکی مروت سمیت جنوبی اضلاع میں بھی بدامنی کے واقعات اور خوف و ہراس کی فضا برقرار ہے۔ مسلسل حملوں کے باعث پولیس اہلکاروں، پولیو ورکرز اور عام شہریوں کے تحفظ سے متعلق سوالات شدت اختیار کر گئے ہیں۔
دوسری جانب وفاقی حکومت کی جانب سے ایمرجنسی کے نفاذ اور نئے انتظامی سیٹ اپ کے تحت مختلف عہدوں پر تعینات کوآرڈینیٹرز اور دیگر ذمہ داران کی عملی کارکردگی بھی زیر بحث آ رہی ہے۔ عوامی حلقوں کی جانب سے سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ جب متاثرہ اضلاع کے انتظامی اور سکیورٹی معاملات کی نگرانی کے لیے نئی ذمہ داریاں اور عہدے متعارف کرائے گئے ہیں تو پھر زمینی سطح پر امن و امان کی بہتری کے آثار کیوں دکھائی نہیں دے رہے؟
حساس اضلاع کے لیے مقرر کردہ ذمہ داران کی موجودگی، ان کی عملی حکمت عملی اور سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کیے گئے اقدامات بھی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ خاص طور پر پولیس اہلکاروں اور پولیو ٹیموں کو مسلسل نشانہ بنائے جانے کے واقعات نے نئے انتظامی نظام کی کارکردگی کے حوالے سے اہم سوالات پیدا کیے ہیں۔
موجودہ صورتحال میں متاثرہ علاقوں کے عوام پولیس اہلکاروں، پولیو ورکرز اور عام شہریوں کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کے منتظر ہیں۔ گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد عوامی توقعات میں اضافہ ہوا تھا، تاہم اب توجہ حکومتی اعلانات کے بجائے عملی اقدامات اور امن و امان کی صورتحال میں بہتری پر مرکوز ہے۔
