ڈاکٹر اشرف علی
وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد گیارہ ارکان پر مشتمل ایک مشاورتی کونسل تشکیل دی ہے، جو صوبے میں انتظامی امور کی بجا آوری میں صوبائی گورنر کی معاونت کرے گی۔ مشاورتی کونسل کے پہلے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے گورنر نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ تحریک انصاف کے تیرہ سالہ گند کو صرف تین ماہ کے اندر صاف کر دیں گے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ان کی پہلی ترجیح یہ ہوگی کہ کسی بھی طرح صوبے میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو قابو میں لایا جائے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں اٹھایا گیا قدم نہ غیر آئینی ہے، نہ غیر قانونی۔ آئین میں اس کی گنجائش بالکل موجود ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس اقدام کو اخلاقی طور پر درست اور جمہوری طور پر راست اقدام قرار دیا جا سکتا ہے؟ کیا اس اقدام سے ملک میں جمہوری رویوں کو پروان چڑھانے میں کوئی مدد مل سکتی ہے؟ اسی سوال کا اگر درست انداز میں جائزہ لیا جائے تو جواب نفی میں ہوگا۔
وفاقی حکومت نے صوبے کے اندر بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور امن و امان کی خراب صورتحال کی بنیاد پر ایک منتخب حکومت کی بساط لپیٹ تو دی ہے اور ساتھ ہی اپوزیشن کی واحد جماعت تحریک انصاف کے آئے روز کے دھرنوں، احتجاجی ریلیوں اور جلسوں سے نجات بھی حاصل کر لی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا وفاقی حکومت کی جانب سے لیے گئے اس اقدام کو عوامی پذیرائی مل سکے گی؟ کیا وفاقی حکومت صوبائی حکومت پر لگائے گئے الزامات کو درست ثابت کر پائے گی؟
اس سلسلے میں پہلی بات یہ ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے لیے گئے اس اقدام کو سماجی اور سیاسی حلقوں میں ایک غیر جمہوری اور غیر اخلاقی قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ حکومتی بنچوں کے علاوہ تقریباً تمام سیاسی جماعتوں کی طرف سے اس اقدام کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان میں شامل قائدین کے علاوہ جمعیت علمائے اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمٰن نے بھی اس اقدام کو مسترد کرتے ہوئے اسے چیلنج کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے اس سلسلے میں کیا لائحہ عمل اختیار کیا جاتا ہے، یہ کچھ ہی دن بعد آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد کے بعد معلوم ہو سکے گا کہ آیا وہ اس اقدام کے خلاف کسی ممکنہ گرینڈ اپوزیشن کے قیام پر متفق ہوتی ہیں یا نہیں۔
لیکن اس اقدام کی اخلاقی حیثیت سے بڑھ کر وفاقی حکومت کے لیے ایک اور چیلنج یہ ہوگا کہ کیا وہ اسلام آباد سے صوبے میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے منحوس سائے کو آگے بڑھنے سے روک سکے گی؟ اس بارے میں زمینی حقائق اچھے نتائج کی نشاندہی نہیں کر رہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف اسی وقت جیتی جا سکتی ہے جب ملٹری، حکومت اور عوام ایک پیج پر نظر آئیں۔
خیبر پختونخوا میں پچھلے تیرہ سال سے تحریک انصاف کی حکومت ہے اور ظاہر ہے کہ یہ حکومتیں عوام کی تائید اور حمایت سے بنتی رہی ہیں۔ ایسی صورتحال میں اگر وہاں کی حکومت اور عوام اس جنگ کی حمایت میں موجود نظر نہ آئیں تو وفاقی حکومت عوامی تائید و نصرت کے بغیر یہ جنگ کیسے جیت پائے گی؟ اس کی ایک مثال بلوچستان کی شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے۔ بلوچستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے، جسے وفاقی حکومت کی پوری تائید حاصل ہے، لیکن کیا وہاں وفاقی حکومت یہ جنگ جیت سکی ہے؟
خیبر پختونخوا میں تو صورتحال یہ ہے کہ خود وفاقی حکومت کی دو اتحادی جماعتوں کے درمیان اعتماد کا فقدان نظر آ رہا ہے۔ صوبے میں پیپلز پارٹی کے گورنر کی معاونت کے لیے تشکیل دی گئی مشاورتی کونسل کے بعد دوسرے ہی دن وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے ایک مانیٹرنگ کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا، جس کی سربراہی ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار کے سپرد کرنا اس بات کا مظہر ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے صوبے میں پیپلز پارٹی کے گورنر کو کسی بھی صورت کھلی چھٹی نہیں دی جا سکتی۔
یہ بات بھی ہمارے پیش نظر رہنی چاہیے کہ وفاقی حکومت کی اتحادی جماعتوں کے درمیان کسی بھی ممکنہ اختلاف کے نتیجے میں پیدا ہونے والے خلا کو دہشت گرد اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔
دوسری طرف حکومت کو تحریک انصاف کی جانب سے کسی بھی ممکنہ مزاحمت سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار رہنا ہوگا۔ گو کہ اس وقت صوبے میں فوج کی موجودگی اور تحریک انصاف کی قیادت کی روپوشی اور جبری حراستوں کی وجہ سے کوئی خاص مزاحمت نظر نہیں آ رہی، لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ یہ خطرہ مستقل طور پر ٹل گیا ہے۔ تحریک انصاف کے تیرہ سالہ اقتدار کا یکسر دھڑن تختہ کرنے سے اس کے کارکنان کے اندر چھپی چنگاریاں کسی بھی وقت بھڑک سکتی ہیں۔
موجودہ صورتحال کے پیش نظر غالب امکان ہے کہ تحریک انصاف کی قیادت سڑکوں پر احتجاجی سیاست کے بجائے، جہاں انصاف مانگنے کے لیے عدالتوں کا رخ کرے گی، وہیں اپنا مقدمہ پارلیمان میں لڑنے کی بھرپور کوشش بھی کرے گی۔ یہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے اس اقدام کو غیر جمہوری اور غیر آئینی قرار دے کر عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی پارٹی کی سیاست یہ بھی واضح کر چکی ہے کہ اس اقدام کے نتیجے میں قومی اسمبلی سے استعفوں کا کوئی آپشن زیر غور نہیں ہے۔