خیبرپختونخوا کے سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کی مخدوش صورتحال

پشاور (پاک ٹوڈے): خیبرپختونخوا کے سرکاری اسکولوں کی عمارتوں اور بنیادی سہولیات کی صورتحال سے متعلق تفصیلی سروے رپورٹ جاری کردی گئی ہے، جس میں متعدد اسکولوں کی حالت تشویشناک قرار دی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق صوبے کے 36 اضلاع میں مجموعی طور پر 34 ہزار 265 سرکاری اسکولوں کا سروے مکمل کیا گیا۔ سروے میں اسکولوں کی عمارتوں، کلاس رومز، دروازوں، کھڑکیوں، لائٹس، پنکھوں، تحریری تختیوں اور صفائی سمیت مختلف بنیادی سہولیات کا جائزہ لیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق صرف 45 فیصد اسکولوں میں دیواروں اور چھتوں کی حالت مکمل طور پر تسلی بخش پائی گئی، جبکہ 29 فیصد اسکولوں میں یہ صورتحال جزوی طور پر تسلی بخش رہی۔ 26 فیصد اسکولوں میں دیواروں اور چھتوں کی حالت غیر تسلی بخش قرار دی گئی۔

سروے کے مطابق اسکولوں کے دروازوں کی صورتحال نسبتاً بہتر رہی۔ 79 فیصد اسکولوں میں دروازوں کی حالت تسلی بخش، 16 فیصد میں جزوی طور پر تسلی بخش جبکہ 5 فیصد میں غیر تسلی بخش قرار دی گئی۔

کھڑکیوں کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا کہ 63 فیصد اسکولوں میں صورتحال تسلی بخش، 30 فیصد میں جزوی طور پر تسلی بخش جبکہ 7 فیصد اسکولوں میں کھڑکیوں کی حالت غیر تسلی بخش پائی گئی۔

رپورٹ کے مطابق 65 فیصد سرکاری اسکولوں میں لائٹس اور پنکھوں کی صورتحال تسلی بخش رہی، جبکہ 22 فیصد اسکولوں میں یہ سہولت جزوی طور پر تسلی بخش اور 13 فیصد میں غیر تسلی بخش قرار دی گئی۔

تحریری تختیوں کی دستیابی اور حالت کے حوالے سے صورتحال دیگر سہولیات کے مقابلے میں بہتر رہی۔ رپورٹ کے مطابق 84 فیصد اسکولوں میں تحریری تختیاں تسلی بخش، 12 فیصد میں جزوی طور پر تسلی بخش جبکہ 4 فیصد اسکولوں میں غیر تسلی بخش پائی گئیں۔

سروے میں اسکولوں میں صفائی کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق 61 فیصد اسکولوں میں کلاس رومز کی صفائی تسلی بخش، 22 فیصد میں جزوی جبکہ 17 فیصد میں غیر تسلی بخش پائی گئی۔

اسی طرح اسکولوں کے عمومی گراؤنڈ کی صفائی کے حوالے سے 57 فیصد ادارے تسلی بخش قرار دیے گئے، 25 فیصد میں صفائی کی صورتحال جزوی طور پر تسلی بخش جبکہ 18 فیصد اسکولوں کے گراؤنڈز کی صفائی غیر تسلی بخش قرار دی گئی۔

رپورٹ میں سامنے آنے والے اعداد و شمار خیبرپختونخوا کے سرکاری اسکولوں میں عمارتوں کی حالت اور بنیادی سہولیات کی فراہمی میں موجود مسائل کی نشاندہی کرتے ہیں، بالخصوص دیواروں اور چھتوں سے متعلق صورتحال کئی اسکولوں میں فوری توجہ کی متقاضی ہے۔

Related posts

لاہور: ای بائیکس اسکیم اور مفت اسکوٹی ٹریننگ کا آغاز

27 ستمبر کا احتجاج: پی ٹی آئی پر حالات خون آلود بنانے کی منصوبہ بندی کا الزام

لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب کے میڈیکل کالجز کو افغان طلبہ نکالنے سے روک دیا۔