اسلام آباد (پاک ٹوڈے): حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے رکن اور وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت شدت پسندی کے خلاف کارروائی میں اپنا آئینی کردار ادا کرنے اور وفاقی حکومت کی پالیسی کے مطابق تعاون کرنے پر تیار نہیں، جس کے باعث حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات میں معاہدہ نہ ہوسکا۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ مذاکرات کے دوران ڈرافٹ میں 2 سے 3 مرتبہ تبدیلی کی گئی، تاہم خیبرپختونخوا حکومت شدت پسندی کے خلاف کارروائی میں سیکیورٹی فورسز کا ساتھ دینے اور اپنا کردار ادا کرنے کی یقین دہانی کرانے پر آمادہ نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ شدت پسندی کے خلاف تعاون نہ کرنے کی بات کسی طور قابل قبول نہیں، اسی معاملے کے باعث مذاکرات کسی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے۔
رانا ثنا اللہ کے مطابق عمران خان سے ملاقات اور علاج معالجے سے متعلق معاملات بنیادی اختلافات نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان سے ملاقاتیں قانون اور جیل ضابطوں کے مطابق پہلے بھی ہوتی رہی ہیں اور آئندہ بھی ہوں گی، تاہم ملاقاتوں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کرنے کی صورت میں رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ لانگ مارچ کو اسلام آباد کی حدود میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور کسی بھی قسم کے انتشار کو قانون کے مطابق روکا جائے گا۔