راولپنڈی (پاک ٹوڈے): ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بھارتی فوج کے اس دعوے کو مسترد کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں کارروائی کے دوران محمد آصف نامی پاکستانی ایس ایس جی کے ریٹائرڈ حوالدار کو ہلاک کیا گیا ہے۔
راولپنڈی میں پریس کانفرنس کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایس ایس جی کے حوالدار محمد آصف کو میڈیا کے سامنے پیش کیا، جنہوں نے بتایا کہ انہیں گزشتہ روز دوستوں کی فون کالز سے معلوم ہوا کہ سوشل میڈیا پر بھارتی فورسز کی جانب سے ان کی ہلاکت کی خبر گردش کر رہی ہے۔
محمد آصف نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے علاقے پنڈی گھیب کے رہائشی ہیں اور 2023 میں ایس ایس جی سے ریٹائر ہوئے۔ ان کے مطابق وہ اس وقت ایک سیکیورٹی کمپنی میں کام کر رہے ہیں اور راولپنڈی میں مقیم ہیں۔
حوالدار محمد آصف نے بھارتی دعوے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ زندہ ہیں اور میڈیا کے سامنے موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے وطن کی خاطر خدمات انجام دی ہیں اور آئندہ بھی ملک کی خدمت کے لیے تیار ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی فوج نے 29 ستمبر کو مقبوضہ کشمیر میں ایک کارروائی کے دوران ایک شخص کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا اور بعد ازاں اس کی شناخت محمد آصف عرف ہاشم موسیٰ کے طور پر کرتے ہوئے اسے پاکستان کا شہری اور ایس ایس جی کا حوالدار قرار دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی دعوے میں محمد آصف کو مختلف کارروائیوں، جن میں پہلگام واقعہ بھی شامل ہے، سے جوڑنے کی کوشش کی گئی، تاہم پاکستان نے ان دعوؤں کو مسترد کردیا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ پاکستان اپنی سلامتی اور سرحدوں کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور کسی بھی ممکنہ کارروائی کا جواب دینے کے عزم کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر عمل درآمد کے لیے بھی پُرعزم ہے اور حرمین شریفین کے دفاع اور سعودی عرب کی سلامتی کے حوالے سے پاکستان کا عزم واضح ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے ملکی سیاسی صورتحال کے حوالے سے کہا کہ افواج پاکستان آئین کے تابع اور ریاستی احکامات کی پابند ہیں، جبکہ صوبوں کے ساتھ سیاسی معاملات پر بات چیت وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔