حمید سمسور
کوئٹہ — بلوچستان گڈز ٹرانسپورٹ کمپنیز ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ صوبے کی قومی شاہراہیں غیر محفوظ ہیں اور ٹرانسپورٹرز کی گاڑیاں جلانے کے بڑھتے ہوئے واقعات تشویشناک ہیں۔
بلوچستان کی قومی شاہراہوں کی سیکیورٹی کی کیا صورتحال رہی؟
بلوچستان گڈز ٹرانسپورٹ کمپنیز ایسوسی ایشن نے شاہراہوں پر امن و امان کی غیر یقینی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایسوسی ایشن کے عہدیدار نور احمد کا کہنا ہے کہ رواں سال صوبے کی قومی شاہراہوں پر عسکریت پسندوں کے حملوں میں گزشتہ برسوں کے مقابلے میں 50 سے 70 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
ٹرانسپورٹرز کے مطابق 70 سے زائد مال بردار گاڑیاں جلائی جا چکی ہیں، جس سے اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔ مسافر گاڑیوں، آئل ٹینکرز اور معدنیات و تجارتی سامان لے جانے والے ٹرکوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اکثر واقعات میں شاہراہیں بند کرکے مسافروں کو گاڑیوں سے اتارا جاتا ہے اور ان کے شناختی کارڈ چیک کیے جاتے ہیں۔
ٹرانسپورٹرز نے بتایا کہ صرف جون کے مہینے میں کوئٹہ، تفتان شاہراہ پر 16 واقعات پیش آئے، جبکہ جولائی میں کوئٹہ کو کراچی سے ملانے والی شاہراہ پر سیکیورٹی کے 25 سے زائد اہم واقعات رونما ہوئے۔ ان واقعات میں مسافر کوچز اور تیل، گیس و معدنیات سے لدے ٹرکوں کو نذرِ آتش کرنے کے واقعات بھی شامل ہیں۔
ٹرانسپورٹرز کے مطابق حکومت نے جلائی جانے والی گاڑیوں کے مالکان کے لیے صرف 10 لاکھ روپے معاوضے کا اعلان کیا، جبکہ ایک گاڑی کی قیمت تین سے چار کروڑ روپے تک ہے۔
ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ صوبے کی اہم قومی شاہراہوں، کوئٹہ سے تفتان جانے والی این-40، کوئٹہ سے کراچی ملانے والی این-25، کوئٹہ کو ڈیرہ اسماعیل خان کے راستے خیبر پختونخوا اور پنجاب سے ملانے والی این-50، کوئٹہ سے سکھر جانے والی این-65، این-85 اور کوئٹہ، ملتان ہائی وے پر ناکہ بندی کرکے گاڑیوں کو جلایا گیا۔ ان واقعات کے بعد حکومت نے ان شاہراہوں پر رات کے وقت سفر پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔
مرکزی انجمن تاجران کے صدر عبدالرحیم کاکڑ نے کہا کہ کوئٹہ، خضدار ہائی وے پر اب صرف کوچز سفر کے لیے استعمال ہو رہی ہیں، جبکہ ٹرک اور دیگر گاڑیاں اس راستے پر نہیں جا سکتیں۔ ٹرانسپورٹرز مجبوری کے تحت بولان کا راستہ استعمال کرتے ہیں۔
ان کے بقول، خاص طور پر کوئٹہ، کراچی اور کوئٹہ، سکھر شاہراہوں پر چوری اور ڈکیتی کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
قومی شاہراہوں پر سیکیورٹی کی صورتحال حکومت کے لیے کتنا بڑا چیلنج ہے؟
صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ بلوچستان پورے ملک کے نصف رقبے پر مشتمل ہے۔ پورے صوبے کی شاہراہوں کو تحفظ فراہم کرنا ایک بڑی ذمہ داری ہے، تاہم پاکستان کی 40 فیصد، یعنی 900 کلومیٹر قومی شاہراہیں بلوچستان میں واقع ہیں، جبکہ صوبے میں افرادی قوت محدود ہے۔
حکومت کی جانب سے شاہراہوں کے تحفظ کے لیے کیا اقدامات کیے گئے؟
ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ حمزہ شفقات نے بتایا کہ شاہراہوں کی سیکیورٹی بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیر نے اس معاملے کا نوٹس لیا ہے، جس کے تحت ایف سی کی ایک نئی ڈویژن قائم کی جا رہی ہے اور اس کے لیے میجر جنرل کی تقرری بھی کی گئی ہے۔
ان کے مطابق پہلے کوئٹہ اور لورالائی کے راستے میں مسافروں کو گاڑیوں سے اتار کر قتل کیا جاتا تھا، تاہم اس شاہراہ پر سیکیورٹی فورسز کی 32 مشترکہ چیک پوسٹیں قائم کی گئی ہیں، جس کے بعد وہاں کوئی ایسا واقعہ پیش نہیں آیا۔
انہوں نے کہا کہ اسی نوعیت کے اقدامات کوئٹہ، تفتان اور کوئٹہ، کراچی شاہراہوں پر بھی کیے جا رہے ہیں اور توقع ہے کہ تین سے چار ماہ میں ان شاہراہوں پر بھی صورتحال بہتر ہو جائے گی۔
دوسری جانب بلوچستان باؤزرز ایسوسی ایشن کے صوبائی صدر عتیق آغا نے پاک ٹوڈے کو بتایا کہ تفتان جانے والی خالی گاڑیوں کو پہلے لک پاس، پھر شیخ واصل، پنج پائی، نوشکی، کوچکی اور آزاد کے مقامات پر دو سے تین دن تک روکا جاتا ہے، جس کے بعد قافلے میں 70 گاڑیوں کو جانے کی اجازت دی جاتی ہے۔ اس طرح ایک چکر مکمل کرنے میں ایک ماہ لگ جاتا ہے۔
ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ عسکریت پسندی، بدامنی، ڈکیتی اور آئے روز احتجاج کے باعث شاہراہوں پر عوامی نقل و حرکت متاثر ہو رہی ہے، مسافر غیر محفوظ ہیں، جبکہ ٹرانسپورٹرز اپنا کاروبار چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔