لندن (پاک ٹوڈے): پاکستانی نژاد برطانوی شہری منیر احمد فاروقی 69 برس کی عمر میں 27 ستمبر 2026 کو انگلینڈ کی فرینکلینڈ جیل میں انتقال کر گئے۔ برطانیہ کے قیدیوں اور پروبیشن کے نگران ادارے (PPO) کے مطابق ان کی موت کی تحقیقات جاری ہیں اور تاحال وجہ سامنے نہیں آئی۔
منیر فاروقی کو ستمبر 2011 میں مانچسٹر کی عدالت نے دہشت گردی سے متعلق جرائم میں سزا سنائی تھی۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق ان پر دہشت گردی کی کارروائیوں کی تیاری، قتل پر اکسانے کے تین الزامات اور دہشت گردی سے متعلق مواد پھیلانے کا جرم ثابت ہوا تھا۔ انہیں چار عمر قید کی سزائیں سنائی گئی تھیں، جن میں کم از کم مدت پوری کرنے کے بعد پیرول پر رہائی کے امکان کا تعین متعلقہ قانونی طریقہ کار کے تحت ہونا تھا۔
مقدمے کے دوران استغاثہ نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ فاروقی مانچسٹر کے علاقے لانگ سائٹ میں اسلامی کتابوں کا اسٹال چلاتے تھے اور نوجوانوں کو افغانستان میں مسلح کارروائیوں میں شرکت کے لیے راغب کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ ان کے خلاف مقدمے میں خفیہ پولیس اہلکاروں کی جانب سے جمع کیے گئے شواہد بھی پیش کیے گئے تھے۔ ان کی سزا کے خلاف اپیل 2013 میں مسترد کر دی گئی تھی۔
دوسری جانب، ان کے خاندان نے ہمیشہ ان کی بے گناہی پر اصرار کیا اور مقدمے کی کارروائی پر اعتراضات اٹھائے۔ خاندان کی جانب سے جیل میں طبی سہولتوں سے متعلق غفلت کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں، تاہم ان الزامات کی آزادانہ تصدیق دستیاب معلومات سے نہیں ہوتی۔
برطانوی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق منیر فاروقی کی نمازِ جنازہ 30 ستمبر کو مانچسٹر سینٹرل مسجد میں ادا کی گئی، جس میں سو سے زائد افراد نے شرکت کی، بعد ازاں انہیں مانچسٹر کے ایک قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔