اوباما کا امریکی انتخابی نتائج پر ردعمل، ووٹرز نے اتحاد اور عملی قیادت کا پیغام دے دیا

واشنگٹن (پاک ٹوڈے): امریکہ کے سابق صدر باراک اوباما نے وسط مدتی انتخابات کے نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ووٹرز نے واضح پیغام دیا ہے کہ وہ تقسیم کے بجائے اتحاد پر مبنی سیاست اور ایسے رہنما چاہتے ہیں جو ملک کو درپیش مسائل کے عملی حل پیش کرسکیں۔

باراک اوباما نے انتخابی امیدواروں اور رضاکاروں کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت کے اقتدار کے دو سال باقی ہیں، اس دوران مثبت تبدیلیوں کے لیے کام کرنے، مزید نقصانات سے بچنے اور بہتر مستقبل کی بنیاد رکھنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ ملک کو درپیش مسائل کے حل اور عوام کی توقعات پوری کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں کی جانی چاہئیں۔

یہ ردعمل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی نے متعدد نشستیں جیت کر ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں ریپبلکن پارٹی سے اکثریت حاصل کرلی ہے۔

Related posts

انڈونیشیا میں صدر کی مبینہ جاسوسی، تین اعلیٰ پولیس افسران گرفتار

امریکی عدالت نے افغان شہریوں کی ملک بدری کا ٹرمپ انتظامیہ کا منصوبہ روک دیا

امریکی تاریخ میں پہلی سیاہ فام خاتون گورنر منتخب، کیشا لانس باٹمز نے جارجیا میں کامیابی حاصل کرلی