لاہور، (پاک ٹوڈے): وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ ملک میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام کا فیصلہ عوام کی رائے اور خواہش کے مطابق ہونا چاہیے، کسی فرد واحد، سیاسی جماعت یا نمائندے کو عوام کی مرضی کے راستے میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔
لاہور میں منعقدہ قومی پالیسی مکالمہ سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ موجودہ انتظامی ڈھانچہ اپنا اثر اور افادیت بڑی حد تک کھو چکا ہے، اس لیے نظام کو ری سیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق ری سیٹ کا مطلب نظام کو ختم یا توڑنا نہیں بلکہ اس میں موجود غلطیوں اور خامیوں کو دور کرکے اسے بہتر بنانا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ ان کے بیان کو مختلف سیاسی حوالوں سے تشریح کیا گیا، تاہم ان کا اشارہ کسی مخصوص سیاسی جماعت یا سیاسی بندوبست کی طرف نہیں تھا۔ وہ گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری ایسے انتظامی نظام کی بات کر رہے ہیں جو مطلوبہ نتائج فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے۔
محسن نقوی نے کہا کہ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کا فیصلہ سیاسی مفادات کے بجائے عوام کی رائے پر چھوڑا جانا چاہیے۔ اگر عوام نئے انتظامی یونٹس چاہتے ہیں تو انہیں قائم کیا جانا چاہیے، جبکہ عوام کی مرضی کے خلاف کوئی فیصلہ مسلط نہیں کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے اسلام آباد کو الگ صوبہ بنانے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی اور عوامی ضروریات کے پیش نظر انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی وقت کی ضرورت بن سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جیسے خاندان بڑھنے کے ساتھ رہائش کے لیے نئے گھروں کی ضرورت پیدا ہوتی ہے، اسی طرح آبادی میں اضافے کے ساتھ نئے انتظامی یونٹس کی ضرورت بھی پیدا ہوسکتی ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ ملک کے آئین نے عوام کو اپنی رائے دینے کا حق دیا ہے اور تمام اداروں و سیاسی قوتوں کو عوام کی رائے کا احترام کرنا چاہیے۔
محسن نقوی نے مزید کہا کہ وہ انتظامی یونٹس کے معاملے سے پیچھے ہٹنے کا ارادہ نہیں رکھتے، چاہے وہ مستقبل میں اپنے موجودہ عہدے پر رہیں یا نہ رہیں۔