ماسکو (پاک ٹوڈے): افغانستان کے بارے میں مسکو فارمیٹ کے آٹھویں مشاورتی اجلاس میں افغان وزیر خارجہ نے پاکستان کے ساتھ حالیہ کشیدگی پر گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان نے افغانستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے ڈیورنڈ لائن کے قریب ہزاروں مسلح افراد جمع کیے ہیں۔
وزیر خارجہ نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ افغانستان پاکستان کے ساتھ مسائل کو باہمی الزامات اور تشہیری مہم میں تبدیل نہیں کرنا چاہتا اور اختلافات کا حل مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے تلاش کرنے پر یقین رکھتا ہے۔ تاہم انہوں نے الزام عائد کیا کہ پاکستان کے حالیہ اقدامات میں افغانستان پر بمباری، افغان مہاجرین کی واپسی اور تجارتی راستوں کی بندش شامل ہیں، جنہیں انہوں نے زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی قرار دیا۔
افغان وزیر خارجہ نے مزید دعویٰ کیا کہ پاکستان نے سابق افغان حکومت کے فوجی اہلکاروں اور داعش کے ارکان کے ذریعے افغانستان میں بدامنی پھیلانے کی کوششیں شروع کی ہیں۔ انہوں نے بدخشان اور نورستان میں حالیہ سکیورٹی واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے بھی پاکستان کو ذمہ دار قرار دیا، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
اجلاس میں افغانستان، پاکستان، روس، چین، ایران، بھارت، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان اور ازبکستان کے نمائندے شریک ہیں، جبکہ بیلاروس اور مصر کے نمائندوں کو بطور مہمان مدعو کیا گیا ہے۔
افغانستان کے لیے روسی صدر کے خصوصی نمائندے ضمیر کابلوف نے کہا کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان موجودہ کشیدگی مسکو فارمیٹ کے اجلاس میں ضرور زیر بحث آئے گی۔ ان کے مطابق شرکا دونوں ممالک کو اختلافات کے حل اور معمول کے تعلقات کی بحالی کے لیے مناسب راستہ تلاش کرنے میں مدد دینا چاہتے ہیں۔
کابلوف نے کہا کہ افغانستان خطے میں اہم جغرافیائی حیثیت رکھتا ہے اور پاکستان کے ساتھ معمول کے تعلقات کے بغیر علاقائی رابطوں اور تعاون سے متعلق کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔ روسی حکام کے مطابق مسکو فارمیٹ کا بنیادی مقصد افغانستان کے حوالے سے علاقائی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔