کابل (پاک ٹوڈے) طالبان کے وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی نے کہا ہے کہ وہ امریکی اسلحہ، فوجی گاڑیاں اور دیگر سازوسامان جو ۲۰۲۱ میں سابق افغان حکومت کے خاتمے کے بعد افغانستان میں رہ گئے تھے، اب افغانستان کی ریاستی جائیداد ہیں اور طالبان انہیں امریکہ کو واپس کرنے یا ان پر سودا کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔
بلخی نے یہ بات سی بی ایس نیوز کے ساتھ ایک تازہ انٹرویو میں کہی۔ سی بی ایس نے ۷ ستمبر کو اپنی رپورٹ میں بتایا کہ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے پانچ سال بعد بھی امریکہ کی خریداری سے حاصل شدہ فوجی گاڑیاں، اسلحہ اور دیگر سازوسامان طالبان کی افواج کے پاس وسیع پیمانے پر دیکھا جا رہا ہے۔
بلخی نے اس سوال کے جواب میں کہ آیا طالبان یہ فوجی سازوسامان امریکہ کو واپس کریں گے، کہا کہ یہ اب افغانستان کی ریاستی جائیداد ہے اور ریاستی جائیداد پر سودا نہیں کیا جاتا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ ان ہتھیاروں اور سازوسامان کی قیمت امریکی ٹیکس دہندگان نے ادا کی تھی تو بلخی نے کہا کہ امریکیوں نے افغانستان میں لوگوں کو قتل کیا اور ملک کو نقصان پہنچایا ہے، اور پوچھا کہ کیا امریکہ کو پہلے ان نقصانات کی قیمت ادا کرنی چاہیے۔
امریکہ کے وزارت دفاع کے اعدادوشمار کے مطابق، 2005سے اگست 2021 تک امریکہ نے سابق افغان فوج اور سیکیورٹی فورسز کے لیے تقریباً 18.6 بلین ڈالر مالیت کا فوجی سازوسامان فراہم کیا تھا۔ سابق حکومت کے خاتمے کے وقت تقریباً 7.1 بلین ڈالر کا سازوسامان افغانستان میں رہ گیا تھا۔
