اسلام آباد (پاک ٹوڈے): انسداد دہشت گردی عدالت نے ایڈووکیٹ ایمن مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کے خلاف پروٹوکول کی خلاف ورزی اور پولیس پر حملے سمیت دیگر الزامات کے کیس میں فرد جرم عائد کرنے کے لیے 6 اکتوبر کی تاریخ مقرر کردی۔
اے ٹی سی جج طاہر عباس سپرا نے کیس کی سماعت کی۔ ایمن مزاری اور ہادی علی چٹھہ ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے جبکہ ان کے وکلا ریاست علی آزاد اور زینب جنجوعہ بھی عدالت میں موجود تھے۔
سماعت کے دوران عدالت نے فرد جرم کی نقول دونوں ملزمان کے وکلا کو فراہم کردیں۔ مقدمہ تھانہ سیکریٹریٹ میں درج ہے، جس میں پولیس سے مبینہ جھگڑے اور عوامی احتجاج سمیت مختلف الزامات شامل ہیں۔
اس سے قبل جمعہ کو عدالت نے دونوں ملزمان کو ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کرنے کا حکم دیا تھا اور ان کی عدم پیشی پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا۔
یاد رہے کہ 17 ستمبر کو سپریم کورٹ نے سوشل میڈیا پوسٹس سے متعلق مقدمے میں دونوں وکلا کی ضمانت منظور کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا 19 فروری کا فیصلہ معطل کردیا تھا۔ یہ حکم اسلام آباد ہائی کورٹ کے حتمی فیصلے تک برقرار رہنا تھا۔
مقدمے کے پس منظر کے مطابق ایمن مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو 23 جنوری کو سرینا ہوٹل کے باہر انڈر پاس کے قریب ضلعی عدالتوں جاتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا، جس کے بعد اے ٹی سی نے انہیں 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا تھا۔