لاہور (پاک ٹوڈے): پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ اختلافِ رائے اور تنقید کو سخت سزاؤں کے ذریعے دبانے کے تجربات ماضی میں ناکام ہوچکے ہیں۔ کوئی ریاست کشادہ دلی، تحمل، تدبر اور برداشت کے بغیر ترقی نہیں کرسکتی۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں خواجہ سعد رفیق نے جبری گمشدگیوں، سیاسی مخالفین کی گرفتاریوں اور تنقید کرنے والوں کو طویل قید کی سزائیں دینے کے رجحان پر تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات انصاف، آئین، قانون اور قومی مفاد کے منافی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بعض اوقات سیاسی اور سماجی تنقید کرنے والے افراد قانونی اور اخلاقی حدود سے تجاوز کرتے ہیں، تاہم اس کا حل ہر آواز کو طاقت کے ذریعے خاموش کرانا یا غیر معمولی سخت سزائیں دینا نہیں ہے۔ ریاست کو قانون نافذ کرنے کے ساتھ اپنے اقدامات اور ان کے ممکنہ منفی ردعمل کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔
ایمان زینب مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو سنائی گئی 10، 10 سال قید کی سزاؤں کا حوالہ دیتے ہوئے سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ ٹریفک بیریئر ہٹانے اور ٹریفک پولیس سے الجھنے کا عمل غلط تھا اور اس کا دفاع نہیں کیا جاسکتا، تاہم ان واقعات کو دہشت گردی کا رنگ دے کر طویل قید کی سزائیں دینا نامناسب اور غیر منصفانہ ہے۔
خواجہ سعد رفیق نے واضح کیا کہ وہ ایمان مزاری کے طرزِ تکلم اور ان کے بیانیے کے کئی نکات سے اختلاف رکھتے ہیں، لیکن اس کے باوجود ان کے اور ان کے شوہر کے خلاف سخت سزاؤں کو درست نہیں سمجھتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ قانون کا یکساں نفاذ اور من پسند انصاف سے گریز ہی ریاست کی بقا کا ضامن ہے، جبکہ محض قانون کی سختی کے ذریعے پائیدار ترقی ممکن نہیں۔
