رپورٹ: اسلام الدین ساجد
اسلام آباد: پاکستان میں سیاسی محاذ آرائی شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ پہلے وفاقی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان کشیدگی نمایاں تھی، تاہم اب جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سمیت دیگر اپوزیشن رہنما بھی حکومت کی پالیسیوں، خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ اور پارلیمان کے کردار پر سخت سوالات اٹھا رہے ہیں۔
بدھ کو قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے حکومت پر الزام لگایا کہ اس نے پی ٹی آئی کے اسلام آباد لانگ مارچ کے معاملے پر سیاسی مفاہمت کی کوششوں سے پیچھے ہٹ کر خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا۔ ان کے بقول، حکومت نے سیاسی تنازعے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے بجائے غیر معمولی آئینی اقدامات کا راستہ اختیار کیا۔
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ اگر خیبر پختونخوا میں امن و امان کی خراب صورتِ حال ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی وجہ ہے تو حکومت کو بلوچستان میں بھی سکیورٹی کی صورتِ حال کا جائزہ لینا چاہیے، جہاں ان کے مطابق اغوا اور بدامنی کے واقعات ایک سنگین مسئلہ بنے ہوئے ہیں۔
انہوں نے حکومت کی شدت پسندی کے خلاف پالیسیوں پر بھی سوالات اٹھائے اور کہا کہ کسی منتخب حکومت کی کارکردگی سے اختلاف کا حل عوامی مینڈیٹ کو نظرانداز کرنا نہیں ہونا چاہیے۔
مولانا فضل الرحمٰن نے الزام لگایا کہ آئینی اختیارات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے حکومت اور اپوزیشن کو مذاکرات کی میز پر آنے اور جمہوریت کے تحفظ کے لیے ایک نئے میثاقِ جمہوریت پر اتفاق کرنے کی دعوت بھی دی۔
ان کا کہنا تھا کہ ریاست کو سیاسی قوتوں کو متحد کرنے کا کردار ادا کرنا چاہیے، نہ کہ اختلاف رکھنے والوں کو مخالف سمجھ کر ان کے خلاف اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے دھمکی دی کہ اگر حکومت لڑنے کے لیے تیار ہے تو وہ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
دفاع اور خارجہ پالیسی پر بھی حکومت کو تنقید کا سامنا
مولانا فضل الرحمٰن نے قومی اسمبلی میں دفاعی اور سفارتی معاملات پر بھی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔
انہوں نے ایران میں ہونے والی علاقائی بات چیت اور دفاعی معاملات کے تناظر میں سوال اٹھایا کہ جب پاکستان کے اہم دفاعی اور سفارتی مفادات زیرِ بحث ہوں تو وزیر دفاع خواجہ آصف اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سمیت متعلقہ حکومتی نمائندے وہاں کیوں موجود نہیں تھے۔
خواجہ آصف کی قومی اسمبلی میں موجودگی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے طنزیہ انداز میں پوچھا کہ جب ایران میں دفاعی معاہدے سے متعلق بات چیت ہو رہی ہے تو پاکستان کے وزیر دفاع ایوان میں کیوں بیٹھے ہیں۔
ان کے اس تبصرے کو ایوان میں حکومت کی خارجہ اور دفاعی حکمتِ عملی پر تنقید کے طور پر دیکھا گیا۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی سے متعلق معاملات میں وزیر داخلہ کا کردار کیا ہونا چاہیے اور متعلقہ وزرا کی عدم موجودگی پارلیمانی نگرانی کے بارے میں کیا تاثر دیتی ہے۔
یاد رہے کہ حال ہی میں تہران میں پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور ایران کے درمیان چار فریقی مذاکرات ہوئے، جن کا مقصد سفارتی کوششوں کے ذریعے خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنا ہے۔ ان مذاکرات میں پاکستان کی نمائندگی آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے کی۔
اس تناظر میں مولانا فضل الرحمٰن کی تنقید نے ایک اہم سوال کو نمایاں کیا ہے کہ پاکستان کی دفاعی اور خارجہ پالیسی میں پارلیمان اور منتخب حکومت کے متعلقہ وزرا کا کردار کتنا مؤثر ہے۔

کیا پارلیمان اپنا مؤثر کردار ادا کر رہی ہے؟
پاکستان میں پارلیمان کے کردار پر بحث نئی نہیں، لیکن موجودہ سیاسی بحران نے اس سوال کو دوبارہ مرکزِ توجہ بنا دیا ہے کہ آیا قومی اہمیت کے فیصلوں میں منتخب نمائندوں کو مناسب کردار مل رہا ہے یا نہیں۔
مولانا فضل الرحمٰن نے اپنے خطاب میں کہا کہ پارلیمان عوام کی نمائندہ ہے، لیکن ملک میں سیاسی برداشت کم ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ سیاسی اختلافات کو طاقت کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کرے۔
دوسری جانب، وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا فیصلہ سکیورٹی خدشات اور صوبائی حکومت کے ساتھ شدت پسندی کے خلاف اقدامات کے معاملے پر اختلافات کے باعث کیا گیا۔
قومی اسمبلی میں وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے حکومت کی جانب سے اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلافات بات چیت کے ذریعے حل ہونے چاہییں۔ انہوں نے شدت پسندی کے خاتمے کے لیے وفاقی حکومت اور صوبائی انتظامیہ کے درمیان تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج، کشیدگی میں اضافے کا خدشہ
وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر کو خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کے اختیارات معطل کر دیے تھے۔ حکومت نے اس اقدام کا جواز بڑھتی ہوئی شدت پسندی اور صوبائی انتظامیہ کی جانب سے شدت پسندی کے خلاف کوششوں میں ناکافی تعاون کو قرار دیا۔
پی ٹی آئی نے اس فیصلے کو اپنے انتخابی مینڈیٹ اور جمہوری حقوق کے خلاف اقدام قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن نے بھی اس فیصلے پر سخت تنقید کی اور کہا کہ سیاسی تنازعات کو غیر معمولی آئینی اقدامات کے ذریعے حل کرنے سے جمہوری عمل کمزور ہو سکتا ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ گورنر راج کے نفاذ کے لیے آئین کے تحت صدر کا مطمئن ہونا ضروری ہے کہ کسی صوبے میں حالات واقعی اتنے خراب ہیں کہ وہاں کی حکومت انہیں کنٹرول نہیں کر سکتی۔ ان کے مطابق، جب صدر سمری پر دستخط کر رہے تھے تو انہیں یہ لکھنا چاہیے تھا کہ وہ اس بات سے مطمئن ہیں کہ حالات واقعی خراب ہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن کے مطابق، صدر آصف زرداری نے سمری پر ایسا کچھ بھی نہیں لکھا۔
ان کی تنقید کے ساتھ دیگر اپوزیشن رہنماؤں کی جانب سے بھی سیاسی مشاورت اور مشترکہ لائحۂ عمل کی بات سامنے آئی ہے۔ 28 اکتوبر کو مولانا فضل الرحمٰن اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر راجا ناصر عباس کے درمیان ملاقات میں آل پارٹیز کانفرنس اور نئے میثاقِ جمہوریت پر بات چیت ہوئی۔ ملاقات میں پی ٹی آئی کے رہنما بھی شریک تھے۔
اس پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ خیبر پختونخوا کے معاملے پر حکومت کو صرف پی ٹی آئی ہی نہیں بلکہ دیگر اپوزیشن حلقوں کی جانب سے بھی سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔

سیاسی عدم استحکام اور معیشت
سیاسی کشیدگی کا ایک اہم پہلو اس کے ملکی معیشت پر ممکنہ اثرات ہیں۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق، پاکستان کو پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے مالیاتی نظم و ضبط، سرمایہ کاری، توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور کاروباری اعتماد کی بحالی کی ضرورت ہے۔ تاہم، طویل سیاسی محاذ آرائی، غیر یقینی حکومتی فیصلے اور اداروں کے درمیان اختلافات اصلاحات کے تسلسل کو متاثر کر سکتے ہیں۔
فنانشل ٹائمز کی حالیہ رپورٹ میں بھی پاکستان کی معیشت کے لیے سیاسی جواز، اصلاحات کے تسلسل اور طاقتور مفادات کے مقابلے میں پالیسی فیصلوں پر عمل درآمد کو اہم قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، معاشی استحکام کے بعض اشاریوں میں بہتری کے باوجود پائیدار ترقی ایک بڑا چیلنج ہے۔
پاکستان کے لیے مسئلہ صرف سیاسی احتجاج یا پارلیمانی تنازعات نہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ آیا حکومت معاشی اصلاحات کے لیے مطلوبہ سیاسی حمایت اور اعتماد حاصل کر سکتی ہے یا نہیں۔ سرمایہ کار عموماً پالیسیوں کے تسلسل اور حکومتی فیصلوں میں پیش بینی کو اہمیت دیتے ہیں، جبکہ طویل غیر یقینی صورتِ حال کاروباری فیصلوں اور سرمایہ کاری کو متاثر کر سکتی ہے۔
ایسی صورتِ حال میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کم از کم بنیادی قومی معاملات پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا معاشی استحکام کے لیے اہم ہو سکتا ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن کی تازہ تقریر اور مختلف اپوزیشن رہنماؤں کے درمیان رابطوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں سیاسی تنازعے کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے۔ حکومت کو اب پی ٹی آئی کے ساتھ اختلافات کے علاوہ ان جماعتوں کی تنقید کا بھی سامنا ہے جو مختلف معاملات پر اس کی پالیسیوں سے اختلاف رکھتی ہیں۔
مولانا فضل الرحمٰن کی تنقید اور تقریر سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اگر حکومت اور سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات کا آغاز نہ ہوا تو آنے والے دنوں میں اپوزیشن جماعتیں سڑکوں کا رخ کر سکتی ہیں۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق شدت پسندی کے خلاف جنگ کے لیے سیاسی اتفاقِ رائے ضروری ہے
پاکستان کو ایک طرف سیاسی محاذ آرائی اور دوسری طرف بڑھتی ہوئی شدت پسندی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سکیورٹی کے مسائل، سرحدی علاقوں میں شدت پسندوں کی سرگرمیاں اور افغانستان کے ساتھ کشیدہ تعلقات حکومت کے لیے اضافی مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔
تجزیہ نگاروں کے نزدیک، شدت پسندی کے خلاف پائیدار حکمتِ عملی کے لیے صرف سکیورٹی آپریشن کافی نہیں ہوتے؛ سیاسی حمایت، مقامی آبادی کا اعتماد، مؤثر انتظامیہ اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کے درمیان تعاون بھی اہم ہیں۔
اگر سیاسی اختلافات کے باعث وفاق اور صوبوں کے درمیان اعتماد مزید کم ہوتا ہے تو شدت پسندی کے خلاف کوششوں میں ہم آہنگی متاثر ہونے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
