واشنگٹن (پاک ٹوڈے): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے اور امن معاہدے کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ روسی برآمدات سے متعلق پابندیوں اور ٹیرف میں نرمی کا مقصد روس کو مذاکراتی عمل سے دور ہونے سے روکنا ہے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے جاری کوششوں میں ایسا کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہتے جس سے روس مذاکرات کی میز سے پیچھے ہٹ جائے۔ ان کے مطابق اس معاملے پر نمایاں پیش رفت ہو رہی ہے، جس میں یرغمالیوں کی رہائی سے متعلق مذاکرات بھی شامل ہیں۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ روس اس وقت ایران کی مدد بہت کم یا بالکل نہیں کر رہا، حالانکہ وہ اس سے کہیں زیادہ تعاون کر سکتا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ صورتِ حال اسی طرح برقرار رہے اور روس ایران کی مدد سے گریز کرتا رہے۔
ٹرمپ نے یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی پر روس میں ڈیزل ریفائنریوں کو نشانہ بنانے پر بھی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حملوں سے عالمی ڈیزل مارکیٹ متاثر ہو رہی ہے، جس کے اثرات امریکا سمیت مختلف ممالک پر پڑ رہے ہیں۔
امریکی صدر کے مطابق روس اس صورتِ حال کے باوجود عالمی منڈی میں کم قیمت پر لاکھوں بیرل ڈیزل فراہم کر رہا ہے، جبکہ کسانوں، مویشی پالنے والوں اور مختلف کاروباری شعبوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
ٹرمپ نے زیلنسکی پر جنگ ختم کرنے میں عدم دلچسپی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین کو یورپ کی جانب سے بھاری مالی امداد مل رہی ہے اور سابق امریکی صدر جو بائیڈن کے دور میں بھی اسے رقم فراہم کی گئی، لیکن اس کے باوجود جنگ جاری ہے۔ ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ اس تنازع کا خاتمہ چاہتے ہیں۔
دوسری جانب ٹرمپ نے اسرائیلی انتخابات میں اپنے اتحادی اور موجودہ وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کی حمایت کا بھی اعلان کیا ہے۔ ٹروتھ سوشل پر اپنی پوسٹ میں انہوں نے نیتن یاہو کو ایک عظیم جنگجو وزیراعظم اور امن کا شراکت دار قرار دیا، جبکہ ایران کے خلاف حملوں میں امریکا کا ساتھ دینے پر بھی ان کی تعریف کی۔
