نیویارک (پاک ٹوڈے): عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں پیر کے روز نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی اور قیمت 2 فیصد سے زائد گر گئی۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اسپاٹ گولڈ کی قیمت 2.1 فیصد کمی کے بعد 4,198.10 ڈالر فی اونس رہی، جبکہ امریکی گولڈ فیوچرز بھی 2.1 فیصد کمی کے بعد 4,231 ڈالر فی اونس پر آگئے۔
مارکیٹ تجزیہ کار ٹم واٹرر کے مطابق بلند بانڈ ییلڈز اور تیل کی بڑھتی قیمتیں سونے پر دباؤ ڈال رہی ہیں، کیونکہ تیل کی قیمتوں میں اضافے سے سرمایہ کاروں میں افراط زر کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکی فیڈرل ریزرو نے رواں ماہ شرح سود میں 0.25 فیصد پوائنٹ اضافہ کیا تھا، جس کے بعد شرح سود کی ہدفی حد 3.75 سے 4 فیصد ہوگئی ہے۔ مارکیٹ میں اکتوبر میں مزید شرح سود میں اضافے کا امکان بھی زیر بحث ہے۔
زیادہ شرح سود عام طور پر ایسے اثاثوں کے لیے دباؤ کا باعث بنتی ہے جو باقاعدہ منافع یا سود ادا نہیں کرتے، جن میں سونا بھی شامل ہے۔
سرمایہ کار اس ہفتے امریکا سے جاری ہونے والے اہم معاشی اعداد و شمار پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں، جن میں ملازمتوں، افراط زر، ADP روزگار رپورٹ، ذاتی کھپت کے اخراجات اور نان فارم پے رولز کے اعداد و شمار شامل ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکی افراط زر یا روزگار کے اعداد و شمار توقعات سے زیادہ مضبوط رہے تو بانڈ ییلڈز پر مزید دباؤ آسکتا ہے، جس سے سونے کی قیمت بھی مزید متاثر ہوسکتی ہے۔
دیگر قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی۔ چاندی 3.4 فیصد کمی کے بعد 62.08 ڈالر، پلاٹینم 2.7 فیصد کمی کے بعد 1,730.78 ڈالر جبکہ پیلیڈیم 2.8 فیصد کمی کے بعد 1,231.46 ڈالر فی اونس پر آگیا۔
