خیبر پختونخوا (پاک ٹوڈے): پاکستان کے وزارتِ اطلاعات و نشریات کے جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بے گناہ عوام کے خلاف حالیہ متعدد شدت پسند حملوں کے بعد سیکیورٹی فورسز نے کوہاٹ، ہنگو اور تھل کے گرد و نواح میں ایک مکمل منصوبہ بند اور انٹیلی جنس پر مبنی زمینی آپریشن کیا۔ اس کے بعد شدت پسند تنظیموں کے ٹھکانوں اور محفوظ پناہ گاہوں کے خلاف ہدف شدہ فضائی حملے بھی کیے گئے۔
20 ستمبر 2026 کو سیکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا کے اضلاع کوہاٹ اور ہنگو میں شدت پسندوں کے ایک گروپ کے خلاف انٹیلی جنس پر مبنی زمینی آپریشن کیا۔ درست اور ہنر مندانہ کارروائی کے نتیجے میں بھارتی پراکسی سے تعلق رکھنے والے نو دہشت گرد ہلاک ہو گئے جبکہ کئی زخمی ہوئے۔
اس کے علاوہ معتبر انٹیلی جنس کی بنیاد پر افغانستان کے ساتھ سرحدی علاقے میں شدت پسندوں اور ان کے اتحادیوں کے کیمپوں اور ٹھکانوں کو منتخب طور پر نشانہ بنایا گیا۔ تین اہداف کو درستگی کے ساتھ تباہ کر دیا گیا جن میں خودکش بمباروں کا تربیتی مرکز بھی شامل تھا، جہاں اٹھائیس شدت پسند بشمول متعدد خودکش بمبار ہلاک ہوئے۔ ان مراکز اور ٹھکانوں میں موجود بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی تباہ کر دیا گیا۔
دوسری جانب افغان حکام نے اس دعوے کی تردید کی ہے۔ افغان حکام کے مطابق گزشتہ شب افغانستان کے صوبہ کنڑ کے ضلع نورگل میں ایک شہری کے گھر پر پاکستانی فورسز کی بمباری کے نتیجے میں تین افراد جاں بحق اور چار زخمی ہو گئے ہیں۔
افغان ذرائع کے مطابق نور محمد نامی شہری کے گھر کو گزشتہ رات مبینہ طور پر بمباری کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک مرد اور دو خواتین جاں بحق جبکہ تین مرد اور ایک بچہ زخمی ہوئے۔ بمباری کے بعد شہری نور محمد کا گھر مکمل طور پر تباہ ہو گیا، جبکہ جائے وقوعہ سے مبینہ طور پر بم کے باقیات بھی جمع کیے گئے۔
صوبہ پکتیکا کے ضلع برمل کے علاقوں تورکنڈی اور رخی میں بھی شہریوں کے گھروں پر پاکستانی فورسز کی مبینہ بمباری کی گئی ہے۔ پکتیکا میں کی گئی بمباری میں ہونے والے جانی نقصان کی تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئی ہیں۔
