کوئٹہ (پاک ٹوڈے): کچلاک میں ایک کم سن بچی کے ضعیف العمر شخص سے مبینہ نکاح کے معاملے پر وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے فوری نوٹس لیتے ہوئے واقعے کی تمام پہلوؤں سے مکمل تحقیقات اور ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی ہدایت کر دی ہے۔
ڈپٹی کمشنر چمن حبیب بنگلزئی کے مطابق کم سن بچی ببو کے والد عبدالباری کو چمن سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ گرفتار ملزم کی حوالگی اور ایف آئی آر کے اندراج کے لیے کوئٹہ پولیس سے رابطہ کیا جا رہا ہے۔ ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی کڑیاں کچلاک میں پیش آنے والے 15 سالہ بچی کے قتل کے واقعے سے ملتی ہیں، جس کی وجہ سے تحقیقات مختلف زاویوں سے جاری ہیں۔
معاون وزیراعلیٰ برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند نے واضح کیا کہ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر واقعے کی مکمل تحقیقات کی جا رہی ہیں اور مرکزی ملزم سمیت تمام ملوث افراد کی گرفتاری کے لیے ضروری اقدامات تیز کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کم سن بچی کے ساتھ پیش آنے والے اس واقعے میں ملوث کسی بھی شخص کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا اور بچی کے تحفظ و انصاف کی فراہمی کے لیے متعلقہ اداروں کو مؤثر اقدامات کی ہدایت کی گئی ہے۔
شاہد رند نے مزید بتایا کہ بلوچستان حکومت بچوں کے حقوق اور تحفظ کے حوالے سے واضح پالیسی رکھتی ہے۔ صوبے میں کم عمری کی شادی کی روک تھام کا قانون موجود ہے اور بلوچستان اسمبلی نے نومبر 2025 میں بلوچستان چائلڈ میرج پروہیبیشن بل منظور کیا تھا۔ حکام کے مطابق تحقیقات جاری ہیں اور مزید حقائق سامنے آنے پر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
