مردان (پاک ٹوڈے): خیبر پختونخوا کے ضلع مردان میں پولیس نے پولیس چوکی پر دستی بم حملہ ناکام بناتے ہوئے مبینہ حملہ آور کو ہلاک کر دیا، جبکہ حملے کے نتیجے میں 3 پولیس اہلکار معمولی زخمی ہوگئے۔
پولیس کے مطابق واقعہ 14 ستمبر کی شب تھانہ تخت بھائی کی حدود میں واقع پولیس چوکی سری بہلول پر پیش آیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ نامعلوم مسلح حملہ آور نے چوکی پر دستی بم پھینکا، تاہم ڈیوٹی پر موجود سنتری نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے حملہ آور کو ہلاک کر دیا۔
پولیس کے مطابق جوابی کارروائی کے دوران حملہ آور کے ہاتھ میں موجود دوسرا دستی بم بھی پھٹ گیا، جس کے نتیجے میں چوکی کے اندر ڈیوٹی پر موجود 3 پولیس اہلکار معمولی زخمی ہوئے۔
زخمی اہلکاروں کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی گئی۔
قائم مقام ضلعی پولیس افسر مردان ماریہ مصطفیٰ دیگر پولیس افسران کے ہمراہ جائے وقوعہ پر پہنچیں اور واقعے کا جائزہ لیا۔ بعد ازاں انہوں نے ہسپتال پہنچ کر زخمی اہلکاروں کی عیادت کی اور ان کی خیریت دریافت کی۔
قائم مقام ڈی پی او نے متعلقہ حکام کو زخمی اہلکاروں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے اور علاج معالجے میں ہر ممکن تعاون یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
پولیس کے مطابق واقعے کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن اور نگرانی کا عمل جاری ہے، جبکہ حملے کی مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ فوری طور پر کسی بھی گروہ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
ملک میں دہشت گردی کی صورتحال
سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (CRSS) کے مطابق پاکستان میں 2025 کے دوران دہشت گردی کے حملوں اور انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں سے متعلق 1,272 واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں 3,417 افراد جاں بحق اور 2,134 زخمی ہوئے۔
CRSS کے اعداد و شمار کے مطابق یہ صورتحال گزشتہ سال کے مقابلے میں 34 فیصد اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔
