پشاور (پاک ٹوڈے): پشتون تحفظ تحریک کے سربراہ منظور پشتین نے پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز کے حالیہ بیان پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ پختونخوا اور بلوچستان کے عوام کو بھارت سے زیادہ پنجاب کے حکمران طبقے اور فوجی پالیسیوں سے خطرہ ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر جاری بیان میں منظور پشتین نے سوال اٹھایا کہ پختونخوا اور بلوچستان میں عام شہریوں پر مبینہ فضائی و ڈرون حملے، لاپتہ افراد کے واقعات، ٹارگٹ کلنگ، عدالتی سزائیں اور سیاسی رہنماؤں کی گرفتاریوں کے پیچھے بھارت ہے یا پنجاب سے تعلق رکھنے والی فوجی قیادت اور سیاسی حکمران؟
منظور پشتین نے دعویٰ کیا کہ پختون اور بلوچ عوام کو عملی طور پر مختلف نوعیت کے مظالم کا سامنا ہے اور گزشتہ چند ماہ کے دوران پختونخوا میں فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں خواتین اور بچوں کی ہلاکتوں کے واقعات بھی پیش آئے ہیں۔ انہوں نے ان دعوؤں کی مزید تفصیل یا اعداد و شمار اپنے بیان میں فراہم نہیں کیے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ پختون، بلوچ، سندھی، کشمیری، سرائیکی اور گلگت بلتستان کے عوام کے وسائل، سیاسی حقوق، زبان اور ثقافت سے متعلق مسائل کے پیچھے ریاستی پالیسیوں کا کردار ہے۔
منظور پشتین نے اپنے بیان میں پنجاب کے سیاسی اور عسکری اشرافیہ پر محکوم قوموں کے تیل، گیس، بجلی، پانی اور دیگر وسائل سے مبینہ طور پر فائدہ اٹھانے کا الزام بھی عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کی سیاسی قیادت کو پختونخوا سے متعلق سکیورٹی معاملات پر اعتراض کرنے سے پہلے ان پالیسیوں کا جائزہ لینا چاہیے جن کے باعث ان کے بقول پختون اور بلوچ عوام مشکلات کا شکار ہیں۔
منظور پشتین نے یہ بیان مریم نواز کے اس مؤقف کے ردِعمل میں دیا جس میں انہوں نے بھارت کے مقابلے میں خیبرپختونخوا اور بلوچستان سے متعلق سکیورٹی خدشات کا ذکر کیا تھا۔
