واشنگٹن (پاک ٹو ڈے): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے ساتھ طے پا جانے والے تاریخی معاہدے کے تحت حاصل ہونے والے خام تیل سے امریکا کے اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر (ایس پی آر) کو دوبارہ بھرنے کا اعلان کر دیا۔
اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ نے سابقہ انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جو بائیڈن کے دورِ حکومت میں ملک کے قومی تیل کے ذخائر تاریخ کی انتہائی نچلی سطح پر پہنچ گئے تھے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ وینزویلا کے تیل کی مدد سے ان ذخائر کی بحالی کا عمل بلا تاخیر اور بہت جلد شروع کر دیا جائے گا۔
عالمی خبر رساں اداروں اور امریکی محکمہ توانائی کے اعداد و شمار کے مطابق، خطے میں کشیدگی اور ایران کے ساتھ جاری تنازع کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل بری طرح متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں امریکی پیٹرولیم ذخائر گزشتہ 44 برس کی کم ترین سطح پر آ چکے ہیں۔
امریکی صدر نے حال ہی میں وینزویلا کے ساتھ توانائی کے شعبے میں دنیا کا سب سے بڑا معاہدہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ اس معاہدے کی رو سے امریکا کو وینزویلا کے 65 ارب بیرل کے ثابت شدہ تیل کے ذخائر پر اکثریتی اختیار اور کنٹرول حاصل ہو گیا ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے امریکا کے مجموعی ذخائر دوگنا سے بھی زیادہ ہو جائیں گے، جس سے نہ صرف انرجی سپلائی چین مضبوط ہوگی بلکہ ملکی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی دیکھنے کو ملے گی۔
