واشنگٹن (پاک ٹوڈے): امریکی کانگریس کی پہلی افغان نژاد منتخب رکن عائشہ وہاب نے واشنگٹن پر زور دیا ہے کہ وہ افغانستان میں اقتدار پر براجمان طالبان حکومت کے ساتھ سفارتی تعامل اور روابط قائم رکھے۔
امریکی میڈیا پروگرام ‘ڈیموکریسی ناؤ’ کو دیے گئے انٹرویو میں کالیفورنیا سے نومنتخب نمائندے عائشہ وہاب کا کہنا تھا کہ افغانستان میں حکومت خواہ کسی بھی گروپ کی ہو، امریکہ کو سفارت کاری کا راستہ نہیں چھوڑنا چاہیے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مسلسل سفارتی رابطوں سے طالبان کو انسانی حقوق، بالخصوص خواتین کے حقوق اور شہری آزادیوں کی بہتری کی طرف لایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے افغانستان کی جیو پولیٹیکل اہمیت اور معدنی ذخائر کا حوالہ دیتے ہوئے معاشی معاہدوں میں شراکت داری کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
طالبان کی مخالف تنظیموں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے عائشہ وہاب نے انہیں "جنگجو” (وار لارڈز) قرار دیا اور کہا کہ ماضی میں امریکی سرپرستی کے باوجود ان گروہوں نے ملک کو لوٹا اور اپنے مفادات کو قومی مفاد پر ترجیح دی، اس لیے افغانستان کے مسائل صرف طالبان تک محدود نہیں ہیں۔
