تہران (پاک ٹوڈے): ایران میں سیکیورٹی حکام نے غیر ملکی استخباراتی اداروں کے لیے جاسوسی اور حکومت مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں ایک شخص کو پھانسی دے دی۔
ایرانی عدلیہ کی خبر رساں ایجنسی ‘میزان آن لائن’ کے مطابق سزائے موت پانے والے شہری کی شناخت مجید عدینہ کے نام سے ہوئی ہے۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ ملزم جنوری میں ہونے والے ملک گیر احتجاج کے دوران امریکا اور اسرائیل سے وابستہ مخاصم گروہوں سے رابطہ قائم کیے ہوئے تھا اور ملکی سلامتی کے خلاف عملی کارروائیوں میں ملوث تھا۔
کرج کی انقلابی عدالت نے کیس میں پیش کی گئی دستاویزات، شواہد اور ملزم کے بیانات کی روشنی میں مجید عدینہ کو سزائے موت کا حکم سنایا، جبکہ اس کی منقولہ و غیر منقولہ جائیداد کو بھی بحقِ سرکار ضبط کرنے کی ہدایات جاری کیں۔ ملزم پر مظاہروں کے دوران چین سا (آری) رکھنے، آتش زنی، نیز ملکی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی سازش کے سنگین الزامات بھی عائد کیے گئے تھے۔
واضح رہے کہ ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے بعد سے سخت اقدامات جاری ہیں۔ تاہم، اس کیس میں ملزم کے وکیل یا آزاد ذرائع کا موقف سامنے نہیں آ سکا، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں ان سزاؤں پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔
