یروشلم (پاک ٹوڈے): شدید بین الاقوامی مخالفت اور سفارتی دباؤ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسرائیل نے مقبوضہ بیت المقدس میں متنازع ’ای ون‘ یہودی آبادکاری منصوبے پر باقاعدہ کام شروع کر دیا ہے۔
اسرائیل کے اس اقدام پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے سات اہم عالمی طاقتوں—برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، نیدرلینڈز، ناروے اور کینیڈا—نے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے تعمیراتی ٹینڈرز کے اجراء کو مکمل طور پر ناقابلِ قبول قرار دیا ہے۔ عالمی برادری کا کہنا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں نئی غیر قانونی بستیوں کی تعمیر سے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام اور ’دو ریاستی حل‘ کے امکانات شدید متاثر ہوں گے۔
اس سے قبل برطانیہ نے اس متنازع آبادکاری منصوبے کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور لندن میں متعین اسرائیلی ناظم الامور کو وزارتِ خارجہ طلب کر کے شدید احتجاج ریکارڈ کروایا۔ عالمی برادری مسلسل انتباہ کر رہی ہے کہ اس منصوبے سے مغربی کنارہ جغرافیائی طور پر دو حصوں میں تقسیم ہو کر رہ جائے گا۔
عالمی شدید مخالفت کے باوجود اسرائیل کا مقبوضہ بیت المقدس میں متنازع ’ای ون‘ آبادکاری منصوبے پر کام شروع
17
