اسلام آباد (پاک ٹوڈے): پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان موجودہ قرض پروگرام کے جائزے کے لیے مذاکرات کل سے شروع ہوں گے، جس کے لیے آئی ایم ایف کا وفد پاکستان پہنچ رہا ہے۔
وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق مذاکرات میں موجودہ قرض پروگرام کی پانچویں قسط کے حصول پر بات چیت ہوگی۔ اس سلسلے میں جائزہ مذاکرات کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔
پاکستانی حکام آئی ایم ایف کو جون 2026 تک کی معاشی کارکردگی اور اسٹرکچرل بینچ مارکس کے تحت طے شدہ اہداف پر بریفنگ دیں گے۔ مذاکرات میں معاشی اصلاحات کے اہداف کے ساتھ توانائی کے شعبے میں اصلاحات بھی زیر بحث آئیں گی۔
ذرائع کے مطابق بجلی اور گیس کے شعبوں میں سرکلر ڈیٹ سے متعلق اہداف پر بھی آئی ایم ایف کے ساتھ بات چیت ہوگی۔
مذاکرات کامیاب ہونے کی صورت میں پاکستان کو موجودہ قرض پروگرام کی پانچویں قسط کے طور پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر مل سکتے ہیں، جس میں تقریباً ایک ارب ڈالر قرض کی قسط جبکہ 20 کروڑ ڈالر موسمیاتی تبدیلیوں کے نقصانات سے نمٹنے کے لیے شامل ہوسکتے ہیں۔
پاکستان نے 37 ماہ پر مشتمل موجودہ قرض پروگرام ستمبر 2024 میں حاصل کیا تھا۔ پروگرام کے تحت پہلی ایک ارب ڈالر کی قسط ستمبر 2024، دوسری ایک ارب ڈالر کی قسط مئی 2025 جبکہ تیسری قسط 11 دسمبر 2025 کو موصول ہوئی تھی۔