کے پی حکومت کے آئینی حقوق معطل کرنے سے بحران مزید گہرا ہوگا، اسد قیصر

اسلام آباد (پاک ٹوڈے): پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت کے آئینی حقوق معطل کرنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ بحران مزید گہرا ہوگا۔

ایکس پر جاری بیان میں اسد قیصر نے الزام عائد کیا کہ حکومت خیبرپختونخوا کی منتخب حکومت کو ہٹانے کے لیے آئینی شقیں تلاش کرنے میں توانائی صرف کر رہی ہے۔ ان کے مطابق اگر یہی توجہ بانی پی ٹی آئی عمران خان، ان کی اہلیہ، زیر حراست پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کو آئینی حقوق دینے اور آئین کے مطابق شفاف اور منصفانہ عدالتی ٹرائل کی فراہمی پر دی جاتی تو ملک کی صورتحال مختلف ہوتی۔

اسد قیصر نے کہا کہ اگر 8 فروری کے انتخابات میں عوام کے دیے گئے مینڈیٹ کو تسلیم کیا جاتا، سابق فاٹا کے انضمام کے وقت خیبرپختونخوا کے عوام سے کیے گئے وعدے پورے کیے جاتے، این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبے کو اس کا حصہ دیا جاتا اور نیٹ ہائیڈل پاور منافع سمیت دیگر واجبات بروقت ادا کیے جاتے تو ملک کو موجودہ سیاسی اور معاشی عدم استحکام کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔

انہوں نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کو دبانے، صوبائی حکومت کو غیر مستحکم کرنے اور بنیادی و آئینی حقوق معطل کرنے سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ اسد قیصر کے مطابق سیاسی استحکام کا راستہ عوامی مینڈیٹ کے احترام، آئین کی بالادستی، صوبوں کے آئینی حقوق کی ادائیگی اور قانون کی یکساں حکمرانی سے نکلتا ہے۔

دوسری جانب پی ٹی آئی اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے درمیان لانگ مارچ ملتوی کیے جانے پر اختلافات کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ نجی ٹی وی کی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کے مطابق تحریک تحفظ آئین پاکستان کا مؤقف ہے کہ اسے 27 ستمبر کے لانگ مارچ کو ملتوی کرنے کے فیصلے پر اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق تحریک تحفظ آئین پاکستان نے دعویٰ کیا کہ لانگ مارچ کے لیے نہ مؤثر رابطہ کمیٹی تشکیل دی گئی اور نہ ہی انتظامی و مالیاتی کمیٹیوں کی تیاری نظر آئی۔ اتحاد کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی قیادت نے لانگ مارچ کے حوالے سے جامع ایجنڈا دیا تھا، تاہم مشاورت کے بغیر اسے ملتوی کرنے کا اعلان کیا گیا۔

تحریک تحفظ آئین پاکستان کے مطابق پی ٹی آئی کارکنان بھی لانگ مارچ ملتوی کیے جانے پر ناراض ہیں اور 4 اکتوبر کو ہونے والے لانگ مارچ کے حوالے سے بھی اس اتحاد سے مشاورت نہیں کی گئی۔ دوسری جانب پی ٹی آئی سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ 4 اکتوبر کے لانگ مارچ کو مؤخر کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔

واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا، تاہم بعد میں مارچ کی تاریخ تبدیل کرکے 4 اکتوبر کردی گئی۔

Related posts

وفاقی وزراء مسلسل دہشت گردی کو خیبرپختونخوا حکومت سے جوڑ رہے ہیں، شفیع جان

3 ہزار سے زائد روکی گئی گاڑیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ، گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کا حکومت کو 72 گھنٹے کا الٹی میٹم

ملاگوری واقعہ: ڈی پی او خیبر کو پولیس ہیڈکوارٹر رپورٹ کرنے کا حکم، 7 روز میں انکوائری مکمل کرنے کی ہدایت