کوہاٹ سانحہ، سہیل آفریدی کا وفاقی پالیسی پر کڑی تنقید، جاں بحق افراد کے خاندانوں اور متاثرہ اداروں کے لیے بڑے اعلانات

کوہاٹ (پاک ٹوڈے): وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کوہاٹ پولیس لائنز واقعے میں جاں بحق ہونے والے اہلکاروں کے اہلخانہ سے ملاقات کی اور ان سے تعزیت کا اظہار کیا۔ اس موقع پر انہوں نے شدت پسندی کے خلاف صوبے کی پالیسی اور وفاقی حکومت کے اقدامات پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

وزیراعلیٰ نے پولیس، سی ٹی ڈی اور دیگر سیکیورٹی اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ جاں بحق افراد نے شہریوں کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور لواحقین کو صبر عطا کرے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا 2004 سے دہشتگردی کے خلاف مسلسل جنگ کا سامنا کر رہا ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ دور حکومت میں افغانستان میں بھارت نواز حکومت کے باوجود پاکستان میں امن کی صورتحال بہتر تھی، جبکہ موجودہ افغان حکومت کے ساتھ ملاقاتوں کے باوجود تعلقات میں بہتری نہیں آئی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ سرحد بند ہونے کے باعث خیبرپختونخوا کو گزشتہ مالی سال 8 ارب روپے سے زائد کا معاشی نقصان ہوا، جبکہ موجودہ مالی سال میں بھی مسلسل سرحدی بندش کے باعث مزید نقصانات کا خدشہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ 22 برس سے ایک ہی پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے، لیکن مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے، اس لیے اب پالیسی میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ ان کے بقول خیبرپختونخوا حکومت دہشتگردی کے خاتمے کے لیے اپنی تجاویز دے رہی ہے، تاہم ان پر مطلوبہ توجہ نہیں دی جا رہی۔

سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت پر الزام عائد کیا کہ اس کی توجہ دہشتگردی کے خاتمے کے بجائے پی ٹی آئی اور عمران خان کے خلاف کارروائیوں پر مرکوز ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت کی ترجیحات کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام کا تحفظ اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

وزیراعلیٰ نے پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے اس پر بھی تنقید کی اور کہا کہ ایسے بیانات سے ریاستی بیانیے پر سوالات پیدا ہوتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے پولیس کو جدید اسلحے سے لیس کرنے کے لیے 35 ارب روپے اضافی فراہم کیے ہیں، جبکہ مالی سال 2026-27 میں پولیس کا بجٹ بڑھا کر 190 ارب روپے کردیا گیا ہے۔ ان کے مطابق صوبائی اسمبلی کے ارکان نے اپنے ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کرکے پولیس کے لیے وسائل فراہم کیے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ پولیس کو مضبوط کیے بغیر صوبے میں پائیدار امن قائم نہیں کیا جاسکتا، جبکہ ان کے مطابق وفاقی حکومت کی موجودہ دہشتگردی پالیسی مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام رہی ہے۔

وزیراعلیٰ نے کوہاٹ سانحے کے متاثرین کے لیے متعدد اقدامات کا اعلان بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی شہداء پیکیج کے دائرے میں نہ آنے والے شہداء کے خاندانوں کو بھی مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔

انہوں نے کوہاٹ ڈی ایچ کیو اسپتال کو ضروری طبی آلات فراہم کرنے، دھماکے سے متاثرہ مسجد اور اسپیشل برانچ پولیس اسٹیشن کی تعمیر نو اور کوہاٹ میں ایک ہزار بستروں کے اسپتال کے منصوبے کو کم سے کم مدت میں مکمل کرنے کا اعلان کیا۔

اس موقع پر اراکین قومی اسمبلی شہریار آفریدی اور داؤد آفریدی سمیت صوبائی وزراء شفیع جان اور آفتاب عالم بھی موجود تھے۔

Related posts

وکیل امیر اعجاز کی مبینہ گمشدگی، پشاور میں وکلا کا احتجاج، خیبر روڈ ایک گھنٹہ بند

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی: پاکستان کی برآمدات میں 1.2 ارب ڈالر کی بڑی کمی، معیشت متاثر

سندھ میں 40 لاکھ سے زائد لڑکیاں اسکول سے باہر، دیہی خواتین کی خواندگی 28 فیصد سے بھی کم