تل ابیب (پاک ٹو ڈے): اسرائیلی حکومت نے تہران کو متنبہ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے جوہری یا بیلسٹک میزائل صلاحیتوں کی بحالی کی کسی بھی کوشش پر دوبارہ فوجی کارروائی کی جائے گی، خواہ اس دوران واشنگٹن اور تہران کے درمیان کوئی سفارتی پیش رفت یا معاہدہ ہی طے کیوں نہ ہو جائے۔
اسرائیلی ویب سائٹ ’وائی نیٹ‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں وزیر توانائی ایلی کوہن نے واضح کیا کہ تل ابیب اپنے دفاع کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے جوہری یا بیلسٹک میزائل پروگرام کو کسی بھی صورت دوبارہ فعال نہیں ہونے دیا جائے گا اور اگر تہران نے ایسی کوشش کی تو اسرائیل بروقت فوجی اقدام کرے گا۔
ایلی کوہن نے دعویٰ کیا کہ اگر ماضی میں کارروائی نہ کی جاتی تو ایران ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کے بالکل قریب پہنچ چکا تھا۔ انٹیلی جنس تخمینوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مشترکہ آپریشنز کے نتیجے میں ایرانی جوہری پیش رفت کو دو سے چار سال پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔
اسرائیلی وزیر نے مزید کہا کہ تل ابیب اپنی آپریشنل صلاحیتیں ثابت کر چکا ہے اور خطرے کی صورت میں دوبارہ کارروائی کی کامل صلاحیات رکھتا ہے۔ یہ سخت بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے ایٹمی پروگرام اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث سفارتی تحرک جاری ہے
