نوشہرہ کے سرکاری گندم گودام میں ریت کی آمیزش کا انکشاف، تحقیقات کی سفارش

پشاور (پاک ٹوڈے): نوشہرہ کے علاقے اضاخیل میں سرکاری گندم گودام میں گندم کے اندر ریت کی آمیزش اور خراب گندم کی موجودگی سے متعلق اطلاعات سامنے آنے کے بعد معاملے کی تحقیقات کی سفارش کی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق گورنر انسپکشن ٹیم کے اچانک دورے کے بعد گودام میں ذخیرہ شدہ گندم کے معیار اور اسے محفوظ رکھنے کے انتظامات پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ معاملے میں ڈائریکٹر فوڈ اور ڈپٹی ڈائریکٹر کے خلاف تحقیقات کی سفارش کی گئی ہے، جبکہ محکمہ خوراک کی جانب سے گندم فوری اٹھانے کی ہدایت بھی سامنے آئی ہے۔

پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا نے 14 اور 15 اکتوبر کو گودام میں موجود خراب گندم کی فراہمی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے اٹھانے سے انکار کر دیا تھا۔ ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا تھا کہ گندم کے نمونے مستند لیبارٹری سے ٹیسٹ کرائے جائیں اور اس کے انسانی استعمال کے لیے محفوظ ہونے کی تصدیق کی جائے۔

معاملے نے سرکاری گندم کے معیار، ذخیرہ کرنے کے نظام اور متعلقہ حکام کی ذمہ داریوں سے متعلق اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ تاہم گندم میں ریت کی آمیزش اور دیگر بے ضابطگیوں سے متعلق الزامات کی حتمی تصدیق تحقیقات اور لیبارٹری ٹیسٹ کے نتائج سے ہی ہو سکے گی۔

Related posts

امریکا کا مشرقِ وسطیٰ میں شہریوں کے لیے سکیورٹی الرٹ، ایران اور حامی گروپوں سے حملوں کا خدشہ

ملتان میں تیز رفتار کار خوفناک حادثے کا شکار، 5 افراد جاں بحق

ماہرنگ بلوچ کی بریت کے خلاف پراسیکیوشن سندھ کی اپیل مسترد