اسلام آباد (پاک ٹوڈے): وزیراعظم کے سیاسی امور کے مشیر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام کا فیصلہ پارلیمنٹ ہی کرے گی، جبکہ اس اہم معاملے پر بحث بھی پارلیمنٹ میں ہونی چاہیے۔
نئے صوبوں سے متعلق حالیہ بحث جولائی کے آخر میں اس وقت شروع ہوئی جب وزیر داخلہ محسن نقوی نے موجودہ حکومتی نظام میں اصلاحات کے تحت نئے صوبوں کے قیام کی ضرورت پر زور دیا، جس پر حکومتی وزرا کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آیا۔
لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران رانا ثناء اللہ سے محسن نقوی کے حالیہ بیانات کے بارے میں سوال کیا گیا، جن میں انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی اور بدلتے ہوئے تقاضوں کے باعث نئے انتظامی یونٹس بنانا پڑیں گے۔
اس پر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ کاروباری سیمینارز یا کانفرنسوں میں اس نوعیت کے بیانات دینے سے معاملے میں کوئی بہتری نہیں آئے گی۔
انہوں نے کہا کہ ان کی عاجزانہ رائے میں نئے صوبوں سے متعلق بحث پارلیمنٹ میں شروع ہونی چاہیے تھی اور اتنے بڑے معاملے کو تقاریر، سوشل میڈیا، سیمینارز یا کاروباری فورمز تک محدود نہیں رکھنا چاہیے۔
وزیراعظم کے مشیر کا کہنا تھا کہ اس معاملے کا نتیجہ بھی پارلیمنٹ میں ہی نکلے گا۔ جب تمام سیاسی جماعتیں اور صوبوں کی قیادت اس معاملے پر بات کریں گی تو اسے بہتر سمت میں لے جایا جا سکتا ہے۔
رانا ثناء اللہ نے واضح کیا کہ کسی بھی صورت میں یہ فیصلہ کہ کوئی نیا صوبہ بنے گا یا نہیں، پارلیمنٹ ہی کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ محسن نقوی نے بھی اپنے بیانات میں کہا تھا کہ نئے صوبوں کا قیام عوام کی خواہش سے مشروط ہونا چاہیے۔ رانا ثناء اللہ کے مطابق اگر عوام نئے صوبے چاہتے ہیں تو انہیں روکا نہیں جا سکتا، تاہم عوام کی رائے جاننے اور اس پر فیصلہ کرنے کا مناسب فورم پارلیمنٹ ہے۔
رانا ثناء اللہ نے بتایا کہ مسلم لیگ ن اس معاملے پر غور کر رہی ہے اور بحث آگے بڑھنے کے بعد اپنی پالیسی کا باضابطہ مؤقف سامنے لائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اب تک کسی وزیر نے نئے صوبوں کا معاملہ وفاقی کابینہ کے سامنے نہیں اٹھایا۔ ان کے مطابق جب یہ موضوع کابینہ میں زیر بحث آئے گا تو وزیراعظم شہباز شریف اس حوالے سے مناسب ہدایات جاری کریں گے۔
وزیراعظم کے مشیر نے یہ بھی کہا کہ اگر عوامی رائے جاننے کے لیے ریفرنڈم کرانے کی ضرورت پیش آئے تو اس کے لیے بھی پارلیمنٹ کی منظوری درکار ہوگی۔
