اسلام آباد (پاک ٹوڈے): پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ پارٹی پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے خلاف نہیں اور سنگین تحفظات کے باوجود ملک کی خاطر حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
اسد قیصر نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کے امن کے مطالبے کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے امن کے لیے مشترکہ لائحہ عمل ضروری ہے اور اسی مقصد کے لیے آل پارٹیز کانفرنس بلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس کے ایجنڈے میں امن و امان، بنیادی انسانی حقوق، سیاسی قیدیوں کی رہائی اور آئین و قانون کی بالادستی شامل ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی پاکستان کی خاطر ہر فورم پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔
سابق اسپیکر نے صوبائی حکومت کے اختیارات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کے چیف ایگزیکٹو کے آئینی اختیارات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے پولیس میں تبادلوں اور تقرریوں کے معاملے پر بھی صوبائی حکومت سے مشاورت کا مطالبہ کیا۔
اسد قیصر نے کہا کہ پی ٹی آئی آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر سیاسی جدوجہد جاری رکھے گی اور احتجاج پرامن رہے گا، قانون ہاتھ میں نہیں لیا جائے گا۔
گورنر راج سے متعلق انہوں نے کہا کہ ایسی دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے اور اگر صوبائی حکومت کے آئینی اختیارات محدود کیے گئے تو اس کے اثرات پارلیمانی نظام پر پڑ سکتے ہیں۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پی ٹی آئی کے آئینی و قانونی مطالبات پر بات کی جائے اور کہا کہ مطالبات تسلیم ہونے تک پرامن احتجاج ان کا آئینی و قانونی حق ہے۔