لوئر جنوبی وزیرستان (پاک ٹوڈے): تحصیل برمل کے علاقے اعظم ورسک سے تعلق رکھنے والے 40 متاثرہ خاندانوں نے پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے دفتر میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے حملوں میں متاثر ہونے والے افراد کے لیے معاوضوں کی فوری ادائیگی اور زخمیوں کے مفت علاج کا مطالبہ کیا ہے۔
پریس کانفرنس میں متاثرہ خاندانوں نے بتایا کہ وہ کواڈ کاپٹر حملوں، مارٹر گولہ باری اور خودکش دھماکوں کے باعث جانی نقصان اور دیگر مشکلات کا سامنا کر چکے ہیں۔ ان کے مطابق بعض خاندانوں کے 6 سے 9 افراد جاں بحق یا زخمی ہوئے، جس کے باعث انہیں شدید معاشی اور طبی مسائل کا سامنا ہے۔
متاثرین نے شکایت کی کہ زخمیوں کو صحت کارڈ پروگرام کے تحت علاج کی سہولت نہیں مل سکی۔ ان کا کہنا تھا کہ مالی وسائل کی کمی کے باعث متعدد متاثرین مہینوں تک مناسب طبی سہولیات حاصل کرنے سے محروم رہے، جس سے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا۔
خاندانوں نے معاوضوں کی ادائیگی میں تاخیر پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنے مطالبات کے سلسلے میں مقامی تھانے اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) کے دفتر کے درمیان بار بار چکر لگانے پڑتے ہیں، تاہم انہیں تاحال مطلوبہ ریلیف نہیں مل سکا۔
متاثرہ خاندانوں نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی، چیف سیکریٹری، صوبائی حکومت اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) سے مطالبہ کیا کہ معاوضوں کی ادائیگی کے عمل کو تیز کیا جائے اور زخمیوں کے مفت علاج کے لیے مؤثر انتظامات کیے جائیں۔
انہوں نے متعلقہ حکام سے واقعات کے ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ متاثرین نے زور دیا کہ علاقے کے لوگوں کو امن و امان، تحفظ، بنیادی حقوق اور باعزت زندگی گزارنے کے لیے ضروری سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ متاثرہ خاندان اپنی زندگی معمول پر لاسکیں۔
