سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں نے وزیراعلیٰ پنجاب کے بیان کو صوبائی تعصب اور تقسیم انگیزی قرار دے دیا

لاہور (پاک ٹوڈے): وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے اس بیان پر سیاسی رہنماؤں، کارکنوں اور صحافتی حلقوں کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پنجاب کو پڑوسی ممالک کے مقابلے میں پڑوسی صوبوں سے زیادہ سیکیورٹی خطرات لاحق ہیں۔

لاہور میں مصنوعی ذہانت کے مرکز کے افتتاح کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا تھا کہ دہشت گردی پنجاب میں صوبائی سرحدوں اور تین سرحدی علاقوں کے راستے داخل ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کو درپیش خطرہ پڑوسی ممالک کے مقابلے میں پڑوسی صوبوں سے زیادہ ہے۔

مریم نواز کے اس بیان کو ناقدین کی جانب سے بالخصوص خیبرپختونخوا کے خلاف قرار دیا گیا اور اس پر صوبائی تعصب اور تقسیم انگیزی کے الزامات عائد کیے گئے۔

سابق سینیٹر اور سینئر سیاست دان مشاہد حسین سید نے مریم نواز کے بیان کو انتہائی حیران کن، تقسیم انگیز اور توہین آمیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے صوبائی تعصب کی عکاسی ہوتی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ خیبرپختونخوا کے عوام خود دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں میں شامل ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور قومی اسمبلی کے سابق اسپیکر اسد قیصر نے بھی بیان پر ردعمل دیتے ہوئے اسے خیبرپختونخوا کے عوام کے لیے توہین آمیز قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صوبے کے عوام اور پولیس نے بھاری قربانیاں دی ہیں، اس لیے انہیں طعنوں کے بجائے خراجِ تحسین پیش کیا جانا چاہیے۔

پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے مریم نواز کے مؤقف کو تعصب پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی کے مسئلے کو محدود صوبائی زاویے سے دیکھنا درست نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے عوام ریاست کے لیے بڑی قربانیاں دے چکے ہیں اور انہیں سیکیورٹی مسئلہ قرار دینا درست طرزِ عمل نہیں۔

سینئر صحافی سید طلعت حسین نے بھی وزیراعلیٰ پنجاب کے بیان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے ایک تشویش ناک بیان قرار دیا۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ جب پالیسی سازی کے لیے محدود مشاورت اور نمائشی ذرائع پر انحصار کیا جائے تو ایسے بیانات سامنے آتے ہیں۔

تحریک تحفظ آئین پاکستان سے وابستہ کارکن عمار علی جان اور ان کے ساتھیوں نے بھی مریم نواز کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے اسے افسوس ناک کے ساتھ خطرناک قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے اپنے صوبوں کو دہشت گردی کا ذمہ دار ٹھہرانے سے علاقائی فاصلے اور نفرت کے جذبات بڑھ سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے بیان واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

اپوزیشن جماعتوں، خصوصاً تحریک انصاف اور تحریک تحفظ آئین پاکستان، نے مؤقف اختیار کیا کہ دہشت گردی ایک قومی مسئلہ ہے جس سے نمٹنے کے لیے وفاق اور تمام صوبوں کو باہمی تعاون کے ساتھ حکمتِ عملی اختیار کرنا ہوگی۔

سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا سمیت دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں کے عوام نے اس جنگ میں بھاری جانی و مالی نقصان برداشت کیا ہے، اس لیے کسی ایک صوبے کو سیکیورٹی خطرے کے طور پر پیش کرنے کے بجائے قومی سطح پر مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے۔

مریم نواز کے بیان کے بعد پیدا ہونے والے تنازع نے ایک مرتبہ پھر وفاق اور صوبوں کے درمیان تعلقات، باہمی اعتماد اور ملک کو درپیش اندرونی سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے طریقۂ کار پر بحث کو نمایاں کر دیا ہے۔

Related posts

بلوچستان: مستونگ سے پانچ نامعلوم افراد کی لاشیں برآمد

ایس ایس پی کورنگی کے اہلخانہ اور پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج

بلوچستان: کوئٹہ اور قلعہ سیف اللہ میں دستی بم دھماکے، پولیس اہلکار سمیت 4 افراد زخمی