اسلام اباد (پاک ٹوڈے): نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے جمعہ کو کہا ہے کہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب پر مشتمل سٹریٹجک پولیٹیکل ڈیفنس کمیٹی (SPDC) کا اجلاس "جلد” ریاض میں منعقد ہو گا۔
وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں پاکستانی وفد کی مصروفیات اور اس کے موقع پر ہونے والی اعلیٰ سطحی ملاقاتوں پر پریس بریفنگ دے رہے تھے۔ ان کے مطابق نیویارک میں تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ موجود تھے، اسی لیے اجلاس کا منصوبہ بنایا گیا۔ ان میں وہ خود، ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان اور سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود شامل تھے۔
ڈار نے بتایا کہ مکہ معاہدے کے تحت قائم SPDC میں ہر ملک کے تین ارکان ہوتے ہیں، یعنی وزیر خارجہ، وزیر دفاع اور آرمی چیف۔ 25 ستمبر کو ریاض میں تینوں ممالک کے آرمی چیفس کا خصوصی اجلاس ہوا، جبکہ اس سے پہلے 24 ستمبر کو نیویارک میں وزرائے خارجہ نے سعودی عرب پر حوثی حملوں میں اضافے کے تناظر میں ملاقات کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ پوری SPDC کا اجلاس ریاض میں اصولی طور پر طے پا چکا ہے، جس میں موجودہ صورتحال اور "زمینی حقائق” کا جائزہ لیا جائے گا، خاص طور پر سعودی عرب کے حوالے سے۔ اجلاس کی تفصیلات اس کے انعقاد کے بعد بتائی جائیں گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے واضح کیا کہ یہ ہنگامی اجلاس ہو گا، جبکہ کمیٹی کا اگلا طے شدہ اجلاس اکتوبر کے آخر یا نومبر کے آغاز میں ہو گا، جب اس کا کام مکمل ہونے کی توقع ہے۔
7 اگست کو دستخط شدہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ SPDC کا پہلا اجلاس 31 اگست کو استنبول میں ہوا تھا، جس میں فیصلہ کیا گیا کہ اتحاد کا سیکرٹریٹ ابتدائی طور پر تین سال کے لیے پاکستان کی سربراہی میں کام کرے گا۔
مدینہ میں بجلی گھر پر گزشتہ روز ہونے والے فضائی حملے کے بارے میں، جو حوثیوں سے منسوب کیا گیا، ڈار نے کہا کہ پاکستان اس کی مذمت کر چکا ہے اور یہ "ناقابل قبول” ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ انہوں نے حوثی حملوں کے معاملے پر ایران سے تفصیلی بات کی اور یاد دلایا کہ پاکستان اپنے سہ فریقی معاہدے کا پابند ہے۔ ان کے مطابق ایران نے حوثیوں اور عراقی ملیشیا دونوں سے کسی تعلق کی تردید کی۔ ایران نے مشورہ دیا کہ حوثیوں سے "عسکری کارروائی” کے بجائے سیاسی طور پر بات چیت کی جائے۔ ڈار نے وضاحت کی کہ یہ دو وزرائے خارجہ کے درمیان نیک نیتی سے ہونے والی محض ایک "مشاورت” اور تجویز تھی۔