روسی پارلیمانی انتخابات: ولادی میر پیوٹن کی جماعت ’یونائیٹڈ رشیا‘ کو ابتدائی نتائج میں واضح برتری حاصل، آئینی اکثریت کے قریب

ماسکو (پاک ٹوڈے): روس میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے ابتدائی نتائج میں صدر ولادی میر پیوٹن کی حکمراں جماعت ’یونائیٹڈ رشیا‘ نے واضح برتری حاصل کر لی ہے، جس کے بعد ایوانِ زیریں (ڈوما) میں پارٹی کی آئینی اکثریت برقرار رہنے کا قوي امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

​روسی مرکزی الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق، 71.17 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے تک ‘یونائیٹڈ رشیا’ نے 57.53 فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں۔ اس کے علاوہ، 225 براہ راست حلقوں میں سے 208 نشستوں پر بھی حکمراں جماعت کے امیدوار اپنے مدِ مقابل حریفوں سے نمایاں آگے ہیں۔

​روسی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں (ڈوما) کی کل 450 نشستوں پر دوہرے نظام کے تحت انتخابات منعقد ہوتے ہیں؛ جن میں سے 225 نشستوں کا انتخاب پارٹی فہرستوں کی متناسب نمائندگی کی بنیاد پر ہوتا ہے، جبکہ باقی 225 نشستیں براہ راست سنگل ممبر حلقوں سے منتخب کی جاتی ہیں۔ موجودہ نتائج کی روشنی میں ‘یونائیٹڈ رشیا’ مطلوبہ 301 نشستوں کا ہدف حاصل کرکے ایوان میں دو تہائی (آئینی) اکثریت حاصل کرنے کی مضبوط پوزیشن میں آ گئی ہے۔

​انتخابی نتائج کے مطابق، کمیونسٹ پارٹی آف دی رشین فیڈریشن 14 فیصد ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر موجود ہے، جبکہ لبرل ڈیموکریٹک پارٹی نے 8.73 فیصد، نیو پیپل پارٹی نے 7.97 فیصد اور اے جسٹ رشیا پارٹی نے 5.03 فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں۔

​واضح رہے کہ یوکرین کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگ کے ماحول میں یہ روس کے پہلے پارلیمانی انتخابات ہیں، جن کے دوران سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے تھے۔ روسی حکام کا کہنا ہے کہ انتخابی عمل کے دوران یوکرین کی جانب سے حملوں اور خلل ڈالنے کی کوششیں کی گئیں، تاہم ووٹنگ کا عمل کامیابی کے ساتھ مکمل کیا گیا۔

Related posts

بنوں میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں ۵ عسکریت پسندوں کی ہلاکت کا جھوٹا دعوٰی