تحریر: ریاض حسین
پشاور: خیبر پختونخوا پولیس نے صوبے بھر میں نصب نگرانی کرنے والے ڈرونز اور ڈرون شکن نظام کو سیف سٹی پشاور کے مرکزی کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر سے منسلک کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد سیکیورٹی نگرانی کو موثر بنانا اور عسکریت پسند گروہوں کی جانب سے بغیر پائلٹ کے فضائی گاڑیوں (یو اے وی) کے بڑھتے ہوئے استعمال سے پیدا ہونے والے خطرات کا مقابلہ کرنا ہے۔
اس نظام کے تحت اب صوبے کے کسی بھی علاقے میں پولیس کے نگرانی کرنے والے ڈرونز سے حاصل ہونے والی براہ راست ویڈیو اور دیگر معلومات مرکزی کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر میں دیکھی جا سکیں گی۔ اس میں پولیس اور محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی جانب سے کیے جانے والے فیلڈ آپریشنز کی نگرانی بھی شامل ہے
نگرانی کے کیمروں، پولیس ڈرونز اور ڈرون شکن نظام کو ایک مرکزی نیٹ ورک سے منسلک کرنے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان رابطہ کاری بہتر بنانے اور سیکیورٹی کارروائیوں کے دوران معلومات کی بروقت فراہمی میں بھی مدد ملنے کی توقع ہے۔
خیبر پختونخوا سیف سٹیز پراجیکٹ کے ڈائریکٹر ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس اعجاز احمد نےکہا ہے کہ نئے مربوط نظام کے ذریعے دشمنانہ مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے کواڈ کاپٹرز اور دیگر ڈرونز کی بروقت نشاندہی اور انہیں ناکارہ بنانا ممکن ہوگا۔
کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی آئی جی اعجاز احمد نے بتایا ہے کہ جدید ڈرون شکن نظام پشاور، ڈیرہ اسماعیل خان، لکی مروت، ٹانک اور بنوںمیں پہلے ہی نصب کیے جا چکے ہیں، جبکہ صوبے کے دور دراز اور حساس علاقوں میں
تعینات پولیس اہلکاروں کو ڈرون شکن گنز بھی فراہم کی گئی ہیں۔
ان کے مطابق اس نظام کے ذریعے اعلیٰ پولیس افسران صوبے بھر میں پولیس کی کارروائیوں کی براہ راست نگرانی کر سکیں گے اور انہیں زمینی صورتحال سے مسلسل آگاہ رکھا جا سکے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد ممکنہ فضائی خطرات کی بروقت نشاندہی، فیلڈ میں موجود پولیس اہلکاروں اور مرکزی کمانڈ کے درمیان رابطہ بہتر بنانا اور سیکیورٹی کارروائیوںکو زیادہ موثر بنانا ہے۔
تاہم، بعض دور دراز علاقوں میں انٹرنیٹ کی عدم دستیابی بدستور ایک چیلنج ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے سپارکو (اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن) کے تعاون سے اقداماتکیے جا رہے ہیں۔
خصوصی یو اے وی ڈویژن قائم
دوسری جانب خیبر پختونخوا پولیس نے عسکریت پسند گروہوں کی جانب سے ڈرون ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال کا مقابلہ کرنے کے لیے بغیر پائلٹ کے فضائی گاڑیوں (یو ے وی) کے شعبے میں تربیت یافتہ اہلکاروں پر مشتمل ایک خصوصی ڈویژن بھی قائم کیا ہے۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مسلح گروہ ڈرونز کو صرف نگرانی اور گولہ بارود پہنچانے تک محدود رکھنے کے بجائے فضائی حملوں کی مزید جدید اور پیچیدہ حکمت
عملیوں، حتیٰ کہ ایک ہی وقت میں متعدد ڈرونز کے استعمال کی جانب بڑھ رہے ہیں۔
ابتدائی طور پر ایک تجویز کے طور پر سامنے آنے والے اس خصوصی ڈویژن کا قیام عسکریت پسندوں کی بدلتی ہوئی صلاحیتوں اور روایتی زمینی لڑائی سے ٹیکنالوجی پر مبنی فضائی
کارروائیوں کی طرف بڑھتے رجحان کے پیش نظر عمل میں لایا گیا۔
اس ڈویژن میں شامل اہلکاروں کو جدید ڈرون آپریشنز، فضائی نگرانی، انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے، انسداد دہشت گردی، حساس تنصیبات کے تحفظ اور خطرناک سیکیورٹی
کارروائیوں میں یو اے وی ٹیکنالوجی کے استعمال کی تربیت دی گئی ہے۔
ایک سرکاری اہلکار کے مطابق پولیس نے یہ محسوس کیا کہ صرف جدید آلات اور ٹیکنالوجی حاصل کرنا کافی نہیں بلکہ ان کے موثر استعمال اور نگرانی کے لیے تربیت یافتہ افرادی قوت بھی ضروری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کسی پولیس محکمے کی جانب سے اپنی نوعیت کا یہ پہلا خصوصی ڈویژن ہے۔
اہلکار نے مزید بتایا کہ اس ڈویژن کے اہلکار نہ صرف نگرانی کے لیے ڈرونز چلانے کی تربیت رکھتے ہیں بلکہ دشمنانہ مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے ڈرونز کے خلاف الیکٹرانک جوابی
اقدامات کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔
ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال مثبت قدم، مگر مکمل حل نہیں
سینئر صحافی طاہر خان نے پاکستان ٹوڈے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عسکریت پسند گروہوں کی جانب سے ڈرونز کے بڑھتے ہوئے استعمال نے سیکیورٹی اداروں کے لیے ایک سنگین چیلنج پیدا کر دیا ہے، جس کے باعث نگرانی اور سیکیورٹی صلاحیتوں کو بہتر بنانا
پہلے سے زیادہ اہم ہو گیا ہے
انہوں نے حکومت کی جانب سے ڈرون مانیٹرنگ ٹیکنالوجی متعارف کرانے کے اقدام کو مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت کا سراغ لگانے، مشکوک سرگرمیوں کی نگرانی کرنے اور ممکنہ حملوں کی روک تھام کی کوششوں کو مضبوط بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
طاہر خان کے مطابق اس اقدام کو موثر بنانے کے لیے پولیس، سیکیورٹی فورسز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان بہتر رابطہ کاری اور معلومات کے تبادلے کا نظام بھی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا، ’’سیکیورٹی اداروں کے درمیان بہتر رابطہ کاری ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔
اس سے حکام کو زیادہ تیزی سے ردعمل دینے، انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ بہتر بنانے اور عسکریت پسند نیٹ ورکس کے خلاف موثر کارروائی کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔‘‘
تاہم انہوں نے زور دیا کہ بڑھتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے صرف صوبائی حکومت کے اقدامات کافی نہیں ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا، ’’وفاقی حکومت کا تعاون بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ مرکز کی جانب سے مسلسل مالی، تکنیکی اور ادارہ جاتی معاونت کے بغیر صوبائی حکومت اور سیکیورٹی اداروں کے لیے شدت پسندی کے خلاف خاطر خواہ کامیابی حاصل کرنا مشکل ہوگا۔‘‘
عسکریت پسند نئے نگرانی نظام کے مطابق حکمت عملی بدل سکتے ہیں:
سیکیورٹی تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ ڈرون نگرانی اور ڈرون شکن ٹیکنالوجی کی تنصیب سے پولیس کی فضائی خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت بہتر ہو سکتی ہے، تاہم اس سے شدت پسندی یا روایتی دہشت گرد حملوں کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں ہوگا۔
سینئر سیکیورٹی تجزیہ کار شہاب اللہ یوسفزئی نے پاک ٹوڈے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام کی کامیابی کا جائزہ قابل پیمائش نتائج کی بنیاد پر لیا جانا چاہیے، جن میں
مشکوک ڈرونز کی نشاندہی، ممکنہ خطرات کا بروقت پتا لگانا اور ایسے حملوں کی روک تھام شامل ہے جنہیں ناکام بنایا گیا ہو۔
انہوں نے کہا کہ اگر نئے نظام سے ڈرون حملوں میں کمی بھی آتی ہے تو اس کے باوجود عسکریت پسندی کا مجموعی خطرہ برقرار رہے گا۔
ان کے مطابق عسکریت پسند گروہ نگرانی کے نئے نظام سے بچنے کے لیے اپنی حکمت عملی تبدیل کر سکتے ہیں اور ایسے متبادل طریقے اختیار کر سکتے ہیں جن سے سیکیورٹی
اداروں کے لیے ان کی سرگرمیوں کا سراغ لگانا مزید مشکل ہو جائے۔
یوسفزئی نے کہا، ’’جیسے جیسے ٹیکنالوجی ترقی کرتی ہے، اسی طرح غیر روایتی جنگ میں استعمال ہونے والی حکمت عملی بھی تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ عسکریت پسند بھی نگرانی کے نئے نظام سے بچنے کے لیے ایسے آلات تیار یا حاصل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں جو انہیں شناخت سے محفوظ رکھ سکیں۔ یہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز سیکیورٹی حکام، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے یقیناً نئے چیلنجز پیدا کریں گی۔‘‘
انہوں نے زور دیا کہ بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال سے نمٹنے کے لیے صرف جدید نگرانی کی ٹیکنالوجی کافی نہیں ہوگی۔
ان کے مطابق موثر انٹیلی جنس معلومات، انسانی ذرائع سے حاصل ہونے والی اطلاعات، مختلف اداروں کے درمیان رابطہ کاری اور فوری ردعمل کی صلاحیت صوبے میں حملوں کی روک تھام اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے بدستور بنیادی اہمیت رکھیں گے۔
ٹیکنالوجی کے ساتھ ادارہ جاتی صلاحیت اور رابطہ کاری بھی ضروری
نگرانی کرنے والے ڈرونز، ڈرون شکن نظام اور مرکزی مانیٹرنگ کو ایک نیٹ ورک سے منسلک کرنا خیبر پختونخوا میں پولیسنگ کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب عسکریت پسند گروہ بھی جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ
اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
تاہم اس منصوبے کی کامیابی کا انحصار صرف جدید آلات کی دستیابی پر نہیں ہوگا بلکہ تربیت یافتہ اہلکاروں، قابل اعتماد مواصلاتی نظام، مسلسل مالی معاونت اور صوبائی و وفاقی سیکیورٹی اداروں کے درمیان موثر رابطہ کاری پر بھی ہوگا۔
خیبر پختونخوا پولیس کے لیے اصل چیلنج یہ ہوگا کہ وہ ان تکنیکی سرمایہ کاری کو خطرات کی بروقت نشاندہی، آپریشنل رابطہ کاری میں بہتری اور شہریوں کے تحفظ کے حوالے سے
قابل پیمائش نتائج میں تبدیل کرے، جبکہ انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں روایتی انٹیلی جنس اور موثر پولیسنگ کی اہمیت بھی برقرار رکھی جائے۔
