پشاور (پاک ٹوڈے): وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت امن و امان سے متعلق اجلاس ہوا، جس میں انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام، پولیس اور فوج نے امن کے قیام کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں اور 80 ہزار سے زائد افراد نے پاکستان کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ دو دہائیوں کی قربانیوں سے حاصل ہونے والا امن رجیم چینج آپریشن کے بعد دوبارہ بدامنی کی نذر کر دیا گیا۔ ان کے مطابق دہشتگردوں کے پہاڑوں پر جانے سے دوبارہ آبادکاری تک وفاق اور ریاست کو مسلسل خبردار کیا گیا، مختلف اضلاع میں جلسے اور جلوس کرکے آواز اٹھائی گئی، تاہم وفاقی وزراء نے ان تنبیہات کو پروپیگنڈا قرار دیا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ آج صوبے میں فوجی جوان، پولیس اہلکار، بچے، خواتین اور بزرگ دہشتگردی کا نشانہ بن رہے ہیں، جبکہ کسی کو خیبرپختونخوا کے عوام کے خون کی فکر نہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ وفاقی وزراء خیبرپختونخوا کے عوام کو دہشتگرد اور جنگلی کہتے ہیں، لیکن اس کے باوجود کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔ ان کا کہنا تھا کہ لاڈلوں کے لیے ایک اور اور خیبرپختونخوا کے لیے دوسری پالیسی نہیں چل سکتی۔
وزیراعلیٰ نے پنجاب کی وزیراعلیٰ کے اس بیان پر بھی تشویش کا اظہار کیا جس میں بھارت کے بجائے دیگر 3 صوبوں سے خطرے کی بات کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے حوالے سے ریاستی بیانیے کی نفی کرنے والوں سے سوال ہونا چاہیے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ امن کے لیے صوبائی حکومت نے ترقیاتی بجٹ میں 35 ارب روپے کی کٹوتی کرکے یہ رقم پولیس کے لیے مختص کی، جبکہ پولیس کے بجٹ میں 103 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق پولیس کی نفری اور استعداد کار میں اضافہ، اسپیشل برانچ کو مستحکم کرنے اور جدید اسلحہ فراہم کرنے کے اقدامات جاری ہیں، تاہم صرف وسائل فراہم کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا اور وفاق کو اپنی پالیسی تبدیل کرنا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ وہ 15 اکتوبر 2025 سے 22 سال سے جاری پالیسی تبدیل کرنے کی بات کر رہے ہیں۔ تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر نئی پالیسی تشکیل دی جائے تو 100 دن میں امن قائم کیا جا سکتا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کی مرضی اور مینڈیٹ کے برعکس کوئی اقدام قابل قبول نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ایسی کرسی پر لعنت بھیجتے ہیں جو انہیں نظریے سے ہٹا دے اور گورنر راج یا ایمرجنسی کی دھمکیوں سے اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ انہوں نے وفاق سے پالیسی میں تبدیلی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے جوانوں، پولیس اور شہریوں کو مزید خون خرابے سے بچایا جا سکتا ہے اور یہ خیبرپختونخوا سمیت پورے پاکستان کے مفاد میں ہے۔