اسلام آباد (پاک ٹوڈے): قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے مولانا فضل الرحمان کی گزشتہ روز کی تقریر پر ردعمل دیتے ہوئے اسے بلیک میلنگ کے مترادف قرار دیا، تاہم اس پر افسوس کا اظہار بھی کیا۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ کاش گزشتہ روز وہ تقریر نہ ہوتی، کیونکہ مولانا فضل الرحمان اور ان کے بزرگوں کے ساتھ ان کے دیرینہ تعلقات رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی گفتگو کا مقصد مولانا کی تقریر کا جواب دینا اور اس میں کی گئی باتوں کی تصحیح کرنا تھا۔
وزیر دفاع نے مولانا فضل الرحمان سے سوال کیا کہ دس سال تک کشمیر کمیٹی ان کے پاس رہی، اس دوران کیا اقدامات کیے گئے؟ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت میں حصہ دے دیا جاتا تو شاید گزشتہ روز ایسی تقریر نہ ہوتی۔
خواجہ آصف نے کہا کہ خواتین اپنے مردوں کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں، لیکن یہ سوال بھی اہم ہے کہ جب ان کی بہنوں کے ساتھ غلط ہو رہا تھا تو مرد کہاں تھے۔ انہوں نے ارکانِ اسمبلی پر زور دیا کہ وہ گروہی مفادات کے بجائے آئین اور ملکی مسائل کو اپنی سیاست کا محور بنائیں۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ راستے بند کیے جائیں گے تو اسی نوعیت کے حالات پیدا ہوں گے۔ ان کے مطابق انہوں نے ایوان کے تقدس اور ضابطوں کا خیال رکھتے ہوئے اپنی بات محدود رکھی، ورنہ وہ مزید جواب دے سکتے تھے۔
