حمید سمسور
جمعیت علمائے اسلام (ف) نے صوبے بھر کے کارکنوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ کسی بھی سیاسی پیش رفت کے لیے چوکس رہیں اور پارٹی سربراہ مولانا فضل الرحمان کی ہدایات کی روشنی میں تنظیمی اور احتجاجی تیاریاں مکمل کریں۔
پاک ٹوڈے سے گفتگو کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سابق سینیٹر حاجی رحمت اللہ کاکڑ ایڈووکیٹ نے کہا کہ ملک کے موجودہ غیر معمولی حالات، بالخصوص وفاقی اکائی خیبر پختونخوا میں آئین کے نام پر غیر آئینی اقدامات، گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ، لاقانونیت، صوبے کے معدنی وسائل کی لوٹ مار کی آڑ میں آدھے صوبے میں انتظامی کونسل کے قیام جیسے اقدامات اور عوام کے جان و مال کے عدم تحفظ کی صورتحال پر انتہائی تشویش ہے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت نے ملک بھر میں اپنے کارکنوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ آئینی اور قانونی دائرہ کار میں رہتے ہوئے اکابرین کی سربراہی میں اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کے لیے تیار رہیں۔
حاجی رحمت اللہ کاکڑ نے کہا کہ بلوچستان کے بدترین حالات بھی فوری اصلاحات کے متقاضی ہیں، جہاں صورتحال روز بروز خراب ہوتی جا رہی ہے۔ کاروبار کی بندش، سرحدی تجارت اور شاہراہوں کی بندش، اغوا برائے تاوان جیسے واقعات روز کا معمول بن چکے ہیں۔
کیا صوبائی حکومت احتجاج کی اجازت دے گی؟ اس حوالے سے بلوچستان حکومت کے وزیراعلیٰ کے مشیر برائے میڈیا شاہد رند سے رابطے کی کوشش کی گئی، تاہم ان کا مؤقف سامنے نہیں آسکا۔
سابق سینیٹر حاجی رحمت اللہ کاکڑ ایڈووکیٹ نے کہا کہ ان کی جماعت کا احتجاج پرامن ہوگا، جو ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔
دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام (ف) کی صوبائی ایگزیکٹو کمیٹی اور پارلیمانی ارکان کے اجلاس کی صدارت صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کی۔ اجلاس میں مرکزی ایگزیکٹو کونسل کے فیصلوں کی توثیق کرتے ہوئے صوبائی، ضلعی، تحصیل اور یونین کونسل کی سطح پر پارٹی تنظیموں کو فوری طور پر فعال کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
اجلاس میں کہا گیا کہ بلوچستان میں امن و امان کی تشویشناک صورتحال کے باعث کاروباری سرگرمیاں جمود کا شکار ہیں، قومی شاہراہیں مسافروں کے لیے غیر محفوظ ہو چکی ہیں اور بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اجلاس میں صوبائی حکومت پر عوام کے جان و مال کے تحفظ اور بنیادی سہولیات کی فراہمی میں ناکامی کا الزام بھی عائد کیا گیا۔
اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ صوبائی حکومت فوری طور پر بلوچستان اسمبلی میں دینی مدارس کی رجسٹریشن، انتظامی اور قانونی امور سے متعلق بل پیش کرے۔
اس کے علاوہ مائنز اینڈ منرلز، کان کنی اور معدنیات سے متعلق قانون سازی کے مسودے کا بھی جائزہ لے کر اسے اسمبلی میں پیش کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
