لاہور (پاک ٹو ڈے): جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ حکومتی ہٹ دھرمی کے خلاف احتجاج کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے آج رات ملک گیر ہڑتال کا حتمی اعلان کیا جائے گا۔ انہوں نے اپوزیشن جماعتوں پر زور دیا کہ وہ سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر عوامی حقوق کی اس تحریک میں جماعت اسلامی کا ساتھ دیں۔
چیئرنگ کراس پر 12ویں روز بھی جاری دھرنے کے دوران میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے حکومتی معاشی پالیسیوں کو آڑے ہاتھوں لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 7 ڈالر فی بیرل کمی کے باوجود مقامی سطح پر پیٹرول مہنگا کرنا غریب کش اقدامات کا تسلسل ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ پیٹرولیم لیوی کو فوری طور پر ختم اور آئی پی پیز کے ساتھ کیے گئے متنازع معاہدوں کو کالعدم قرار دے کر عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی کے پرامن احتجاج کو حکومت اپنی فتح یا ہماری کمزوری سمجھنے کی بھول نہ کرے۔ ہمارے صبر کی حدود کو نہ آزمایا جائے۔ 25 کروڑ عوام کا مقدمہ لڑ رہے ہیں اور یہ جدوجہد منطقی انجام تک جاری رہے گی۔
انہوں نے احتجاجی شیڈول کی تفصیلات بتاتے ہوئے اعلان کیا کہ دھرنوں کے بعد اب مختلف شہروں میں عوامی طاقت کا مظاہرہ کیا جائے گا، جس کے تحت فیصل آباد، 30 اگست کو راولپنڈی، 31 اگست کو پشاور اور 4 ستمبر کو سوات میں بڑے عوامی جلسے منعقد ہوں گے۔ انہوں نے تنبیہ کی کہ حکومت نے مطالبات تسلیم نہ کیے تو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ سمیت تمام آپشنز کھلے ہیں۔
پمز اسپتال میں پیش آنے والے افسوسناک حادثے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ حکمران ہر سانحے کے بعد محض رسمی کارروائی اور معطلیوں تک محدود رہتے ہیں۔ حکومت یہ واضح کرے کہ اسپتالوں میں حفاظتی تدابیر کا کیا معیار ہے؟ سطحی اقدامات کے بجائے غفلت کے مرتکب تمام افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔